cuba us flags

امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: کیوبا کے صدر نے ٹرمپ کی تردید کردی

کانیل نے کہا رابطے صرف ہجرت کے شعبے میں طریقہ کار کے مقاصد کے لیے ہو رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے اپنے ملک اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات کی نفی کردی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا جب جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جزیرے پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

کانیل نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکی حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، سوائے ہجرت کے شعبے میں طریقہ کار کے مقاصد کے لیے کیے جانے والے رابطوں کے۔ یہ بیان ٹرمپ کے اتوار کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے ہوانا کے ساتھ بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کیوبا کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ٹرمپ نے اتوار کے روز کیوبا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچے ورنہ غیر متعین نتائج کا سامنا کرے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ہوانا کو وینزویلا کے تیل اور رقم کی فراہمی بند ہو جائے گی ۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر کہا کہ کیوبا کئی سالوں تک وینزویلا سے بڑی مقدار میں تیل اور رقم پر گذارہ کرتا رہا ہے اور اس کے بدلے میں وینزویلا کے آخری دو آمروں کو سیکیورٹی خدمات فراہم کرتا رہا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ کیوبا کئی سالوں سے وینزویلا سے بڑی مقدار میں تیل اور رقم حاصل کرتا رہا ہے اور بدلے میں اس نے وینزویلا کے آخری دو آمروں کو سیکیورٹی خدمات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے بات ختم کی کہ "لیکن اب مزید نہیں"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

شدید تناؤ

یاد رہے کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے جواب میں اس بات پر زور دیا تھا کہ "کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے"۔ ڈیاز کانیل نے "ایکس" پر نشر کیے گئے ایک پیغام میں لکھا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار قوم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا جارحیت نہیں کرتا بلکہ وہ 66 سال سے امریکہ کی جارحیت کا شکار ہے اور وہ دھمکی نہیں دیتا بلکہ تیاری کرتا ہے اور وہ خون کے آخری قطرے تک وطن کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب کیوبا کی حکومت نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے آغاز میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے لیے کی جانے والی امریکی کارروائی کے دوران اس کے 32 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مغربی نصف کرہ میں امریکی غلبہ بحال کرنے کی کوششوں کا اگلا ہدف کیوبا ہو سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں