امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، امریکہ نے مزید پابندیاں لگادیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے انتہائی معاشی بد حالی سے تنگ آئے ایرانی عوام کے احتجاج کے دوران ایران پر مزید اقتصادی پابندیوں کا نفاذ کر دیا ہے۔ نئی پابندیوں کی وجہ کرنسی کی قدر اور مہنگائی سے پریشان دکانداروں اور تاجروں کے خلاف ایرانی سیکیورٹی اداروں کے کریک ڈاؤن بتائی گئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر دباؤ مزید بڑھانے کے لیے دنیا بھر کے بینکوں کے ذریعے ایرانی رقوم کی ترسیل روکنے کے لیے ان نئی پابندیوں کا اطلاق کیا ہے۔

محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے 'ایران کی سپریم کونسل برائے قومی سلامتی کے سیکریٹری کے ساتھ پاسداران انقلاب کور اور قانون نافذ کرنے والے دستوں کے کمانڈروں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ کیونکہ یہ سب مظاہرین پر تشدد اور کریک ڈاؤن کے معمار ہیں۔

ویڈیو بیان میں جمعرات کے روز وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ایران کے رہنماؤں کے لیے واشنگٹن کا پیغام واضح ہے کہ وہ ڈوبتے ہوئے جہاز پر چوہوں کی طرح بزدل بن کر بیٹھے رہیں اور بزدلانہ طریقے سے ایرانی خاندانوں سے چوری شدہ فنڈز کو دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کرتے رہیں۔

بیان میں ان حکام کے لیے کہا گیا یقین رکھیں ! ہم ان کا اور آپ کا سراغ لگا کر رہیں گے۔ اب بھی آپ کے لیے وقت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ شامل ہونے کا انتخاب کرلیں اور صدر ٹرمپ نے کہا ہے، تشدد بند کرو اور ایران کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ کے نعرے کے ساتھ جڑ جائیں۔

امریکہ میں قائم کیے گئے ایک انسانی حقوق گروپ ہرانہ کے مطابق اب تک 2435 مظاہرین اور 153 سیکیورٹی کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی یے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باربار ایران میں مظاہرین کی حمایت میں ایران میں مداخلت کی دھمکی دی ہے۔

ایران میں 28 دسمبر 2025 سے ملک گیر بدامنی کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز سخت کارروائی کر رہی ہیں۔

امریکہ ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے مطالبے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ وزیر خزانہ نے خبردار کیا انسانی حقوق پر ایرانی حکومت کے ظالمانہ جبر کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے نئی پابندیوں کے اعلان کے تحت 18 ایرانی حکام کو نشانہ بنایا ہے۔ تاکہ عالمی منڈیوں میں ایرانی پٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل سے متعلق مصنوعات سے ہونے والی رقم منی لانڈرنگ کا ذریعہ نہ بن سکے۔

تازہ ترین اقتصادی پابندیاں جمعرات کے روز لگائی گئی ہیں۔ تاکہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی آگے بڑھائی جا سکے اور جوہری پروگرام روکا جا سکے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں