قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے چیف کمشنرعلی شعث کمیٹی کے مشن بیان پر دستخط کر رہے ہیں۔ (ایکس)
قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ نے بیانِ مقصد جاری کر دیا
غزہ کی تعمیرِ نو، اقتصادی خوشحالی پر زور
نو تشکیل شدہ قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ (این سی اے جی) نے اپنا بیانِ مقصد (مشن سٹیٹمنٹ) جاری کر دیا جس میں غزہ کی تعمیرِ نو اور دیرپا "فلسطینی خوشحالی" پر کام کرنے کے عزم پر زور دیا گیا۔
کمیٹی کے چیف کمشنر اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث نے ہفتے کے روز این سی اے جی کے مشن سٹیٹمنٹ کے بارے میں کہا کہ ان کا پہلا سرکاری عمل اس بیان کو اختیار کرنا اور اس پر دستخط کرنا تھا۔
"اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کی طرف سے اجازت یافتہ قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ، غزہ کے عبوری دور کو دیرپا فلسطینی خوشحالی کی بنیاد میں تبدیل کرنے کے لیے وقف ہے،" کمیٹی کے مشن سٹیٹمنٹ میں تحریر درج ہے۔
ٹرمپ کے غزہ پلان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی کی نگرانی ایک بین الاقوامی "امن بورڈ" کرے گا جس کا مقصد ایک عبوری مدت کے لیے غزہ میں حکمرانی کی نگرانی کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے، "صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی زیرِ صدارت امن بورڈ کی رہنمائی میں اور اعلیٰ نمائندہ برائے غزہ کی حمایت اور معاونت سے ہمارا مشن ہے کہ نہ صرف بنیادی ڈھانچے میں بلکہ حقیقی معنوں میں غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کرنا ہے۔"
نکولے ملاڈینوف اعلیٰ نمائندہ برائے غزہ کے طور پر کام کریں گے۔
جمعہ کو وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملاڈینوف "امن بورڈ اور این سی اے جی کے درمیان زمینی رابطے کے طور پر کام کریں گے۔ شہری اور سلامتی کے اداروں میں ہم آہنگی کو یقینی بناتے ہوئے وہ غزہ کی حکمرانی، تعمیرِ نو اور ترقی کے تمام پہلوؤں پر بورڈ کی نگرانی میں معاونت کریں گے۔"
این سی اے جی کے بیانِ مقصد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ "سکیورٹی کے قیام اور بجلی، پانی، صحت اور تعلیم جیسی ضروری خدمات کی بحالی جو انسانی وقار کی بنیاد ہیں، کے ساتھ ساتھ ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے جس کی بنیاد امن، جمہوریت اور انصاف پر ہو"۔
نیز کہا گیا، "دیانتداری اور شفافیت کے اعلیٰ ترین معیارات کے ساتھ کام کرتے ہوئے این سی اے جی ایک ایسی پیداواری معیشت بنائے گی جو بے روزگاری کو سب کے لیے موجود مواقع سے بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم امن کا استقبال کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم فلسطینیوں کے حقیقی حقوق اور خود ارادیت کے راستے کو محفوظ بنانے کی کوشش کریں۔"
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی کمیٹی کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "میں غزہ اور پورے خطے کے لوگوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کی غرض سے ڈاکٹر علی شعث اور این سی اے جی کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔"