Claire Ni, 14, poses holding a mobile phone as a law banning social media for users under 16 in Australia takes effect, in Sydney, Australia, December 10, 2025. (Reuters)

آسٹریلیا کے بعد: کون سے ممالک بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگا رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، دنیا بھر کی حکومتیں اسی طرح کی پالیسیاں نافذ کرنے پر غور کر رہی ہیں، جس میں زیادہ امکان یہی ہے کہ برطانیہ اگلا ملک ہوگا۔
یہ پابندی 10 دسمبر سے آسٹریلیا میں نافذ العمل ہے، اس میں بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شامل ہیں، جیسے Reddit، X، Instagram، YouTube، اور TikTok۔

ان پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام نافذ کرنے پر مجبور کیا گیا ہے تاکہ 16 سال سے کم عمر افراد اکاؤنٹ نہ بنا سکیں اور عدم تعمیل کی صورت میں کمپنیوں کو 49اعشاریہ 5 ملین آسٹریلوی ڈالر (32 ملین امریکی ڈالر) تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔اگرچہ پابندی نافذ ہونے کے بعد نوجوانوں، ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں اور ماہرین کے ردعمل میں مختلف آراء دیکھنے میں آئیں، دنیا بھر کی حکومتیں اسی طرح کے قوانین بنانے پر غور کر رہی ہیں، جیسا کہ CNBCکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، جسے العربيہ Businessنے دیکھا۔

وہ دیگر ممالک جو 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی پر غور کر رہے ہیں،ان میںبرطانیہ، فرانس، ڈنمارک، اسپین، جرمنی، اٹلی اور یونان شامل ہیں۔

امریکہ اس رجحان میں پیچھے ہے، جہاں قومی سطح پر پابندی کا امکان کم ہے، تاہم ریاستی اور مقامی سطح پر واضح دلچسپی موجود ہے، جیسا کہ رافی ایئر ڈائریکٹر NELI سینٹر مارشل اسکول یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا نے بتایا۔

ایئر نے ای میل میں کہا:وفاقی پالیسی کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے، لیکن یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے دونوں پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے، لہذا یہ ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا:میں ریاستی سطح پر زیادہ پر اعتماد ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے چند سالوں میں کچھ امریکی ریاستیں ایسی پالیسیاں نافذ کریں گی۔فی الحال کیل فورنیا اور ٹیکساس میں قانون ساز 2026 میں ریاستی سطح پر پابندی کے نفاذ کا امکان زیر غور ہے۔

تاہم ایسی پابندی نافذ کرنے والی حکومتیں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کی مزاحمت کا سامنا بھی کر سکتی ہیں۔آسٹریلیا کے اقدام کے بعد Reddit نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ نیا قانون آن لائن سیاسی گفتگو پر حد سے زیادہ پابندی لگا رہا ہے۔ Meta جو Facebook اور Instagram کی مالک ہے، نے Canberra پر پابندی پر نظرثانی کرنے کی درخواست کی۔اور Elon Musk کی X نے صارفین کے لیے جاری کردہ بیان میں کہا:یہ ہمارا اختیار نہیں یہ آسٹریلوی قانون کا تقاضا ہے۔


برطانیہ پابندی کے لیے ووٹ دینے کی تیاری کر رہا ہے

اسی دوران اس سال کے آغاز میں برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی کالز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔متوقع ہے کہ برطانوی ہاؤس آف لورڈز اس ہفتے چائلڈ ویلفیئر اینڈ اسکولز بل میں ترمیم پر ووٹ دے گا، تاکہ اس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی پابندی شامل کی جا سکے۔

ادارہ Childhood Without Smartphonesنے اس ہفتے ایک ای میل مہم شروع کی، جس میں 100000 سے زیادہ پیغامات برطانیہ کے مقامی قانون سازوں کو بھیجے گئے۔ اس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے عمر کے لحاظ سے مناسب حدود مقرر کرے۔

ادارہ کی شریک بانی ڈییزی گرینوِل نے CNBC کو بتایا:ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ جتنا زیادہ وقت بچے اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، اتنے ہی زیادہ منفی اثرات ان کی ذہنی صحت پر پڑتے ہیں۔ اگر یہ پلیٹ فارمز دستیاب نہ ہوں، تو نیٹ ورک کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور نوجوان ایک دوسرے اور حقیقی دنیا سے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے اس خیال کی حمایت کی اور کہا:ہمیں بچوں کو سوشل میڈیا سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ آسٹریلیا کی پابندی پر غور کر رہے ہیں۔فرانس بھی اگلے ملک کے طور پر پابندی کے نفاذ کے لیے مضبوط امیدوار ہے، یہاں دو بل زیر غور ہیں، جن میں سے ایک کو صدر ایمانوئل میکرون کی حمایت حاصل ہے، جس کا مقصد 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانا ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا کے ایئر کے مطابق اگر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عالمی معیار بن جائے، تو اس سے نوجوانوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے کا دباؤ کم ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ معیار تبدیل کیا جائے، تاکہ نوجوان یہ محسوس نہ کریں کہ انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کے تمام دوست اسے کر رہے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں