U.S. President Donald Trump looks on, befrore departing for Florida from the South Lawn, at the White House in Washington, D.C., U.S., January 16, 2026. REUTERS/Nathan Howard

" کوئی تبصرہ نہیں"، گرین لینڈ پر قبضے کے سوال پر ٹرمپ کا جواب

ڈنمارک اور گرین لینڈ نے قطب شمالی کے لیے نیٹو مشن بھیجنے کی تجویز دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’ این بی سی نیوز ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کرنے سے گریز کیا کہ آیا وہ گرین لینڈ کے جزیرے پر قبضے کے لیے طاقت کا استعمال کریں گے۔ ٹرمپ نے نیٹ ورک کو دیے گئے ایک مختصر ٹیلی فون انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت استعمال کریں گے، صرف اتنا کہا: "کوئی تبصرہ نہیں"۔

واضح رہے ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ اس جزیرے پر ان کا کنٹرول امریکہ کی سکیورٹی ضروریات کے لیے لازم ہے۔ نیٹو میں شامل ڈنمارک سمیت ان کے یورپی اتحادی اس معاملے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے انٹرویو میں یورپی رہنماؤں پر گرین لینڈ کے حصول کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے پر تنقید کی اور ان پر زور دیا کہ وہ علاقائی سلامتی کے مسائل حل کریں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونی خطرات کے خلاف قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اس جزیرے پر کنٹرول ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ایمانداری سے کہوں تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس جنگ نے ان دونوں کو کہاں لا کھڑا کیا ہے۔ یورپ کو اس پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ گرین لینڈ پر۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر گرین لینڈ کی خریداری کا معاہدہ نہ ہوا تو وہ یورپی ممالک پر تجارتی محصولات عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یورپی ملکوں کے خلاف اپنی دھمکیوں پر عمل کریں گے تو انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا میں سو فیصد ایسا کروں گا۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈنمارک کے وزیر دفاع ٹرولز لنڈ پولسن نے کہا ہے کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے گرین لینڈ اور آرکٹک ریجن میں نیٹو کے مشن کے قیام کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ڈنمارک کے وزیر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے اور گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹز فیلڈ سے ملاقات کے بعد گفتگو کر رہے تھے۔ ٹرولز لنڈ پولسن نے ڈنمارک کے ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ہم نے یہ تجویز پیش کی ہے اور سیکرٹری جنرل نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب ہم ایک ایسے فریم ورک کی امید کر سکتے ہیں جو اس بات کا تعین کرے گا کہ اسے عملی شکل کیسے دی جائے گی۔

دوسری جانب مارک روٹے نے کہا ہے کہ نیٹو اتحاد آرکٹک کے علاقے کی سلامتی کے حوالے سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔ روٹے نے ملاقات کے بعد ’’ ایکس ‘‘ پر لکھا کہ ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ آرکٹک بشمول گرین لینڈ ہماری اجتماعی سلامتی کے لیے کتنا اہم ہے اور ڈنمارک کس طرح کلیدی صلاحیتوں میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ واضح رہے گرین لینڈ وسیع تر خود مختاری کے ساتھ ڈنمارک کی سرزمین کا حصہ ہے۔ گرین لینڈ، جس کی آبادی 57 ہزار سے بھی کم ہے، ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہے کہ وہ امریکہ کا حصہ بننے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ نیٹو کے اتحادیوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ آرکٹک کے تحفظ کے لیے گرین لینڈ کا امریکہ کے قبضے میں جانا ضروری نہیں ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں