امریکی فوجی بریڈلی فائٹنگ وہیکلز (BFVs) کے قریب چہل قدمی کر رہے ہیں جو کہ امریکہ کی قیادت والی کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس-آپریشن موروثی حل اتحاد کی افواج کے درمیان اسلامک اسٹیٹ (IS) گروپ اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے ارکان کے درمیان شام کے شمال میں واقع صوبہ ہسکیہ (دیرک) کے شہر المالکیہ کے دیہی علاقوں میں ہے۔ 7، 2022۔ (تصویر از دلیل سلیمان / اے ایف پی)

امریکہ نے داعش کے زیر حراست جنگجوؤں کو عراق منتقل کرنا شروع کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے ایک نئی کوشش کے تحت شام سے داعش کے دہشت گردوں کو اب عراق میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان داعشی دہشت گردوں کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں حراست میں رکھا گیا تھا۔ امریکی پینٹاگون نے بدھ کے روز داعشی افرادی قوت کی منتقلی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹ کام کے جاری کردہ بیان کے مطابق اب تک کم ازکم 150 داعشی جنگجو شام سے عراق میں بھیجے جا چکے ہیں۔ جبکہ مزید 7000 جنگجوؤں کوعراق میں بھیجنے کا کام ابھی باقی ہے۔

یہ امریکی اقدام شام میں حالیہ دنوں میں شامی فوج اور کرد دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے بعد کیا گیا ہے۔ کرد دہشت گردوں نے 'ایس ڈی ایف' کے نام سے ایک باقاعدہ فوج بنا رکھی ہے۔

ان کرد جنگجوؤں سے ترکیہ کو بھی مسئلہ رہا ہے اور ترکیہ انہیں دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ تاہم امریکہ ان کردوں کو اپنا اتحادی سمجھتا ہے۔ شامی حکومت نے چند روز پہلے ان کردوں کی 'ایس ڈی ایف' کے ساتھ جنگ بندی کر لی ہے۔

پینٹاگون نے داعش جنگجوؤں کے بارے میں اس تازہ اقدام کے حوالے سے کہا ہے ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں