وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی عدالت میں پیشی کے لیے منتقل کر دیا گیا (روئٹز)

مادورو کی گرفتاری کے لیے ایک خفیہ ہتھیار استعمال کیا جس نے دشمن کو چکرا دیا : ٹرمپ

ایک سکیورٹی گارڈ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ تمام ریڈار نظام اچانک بند ہو گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ رواں ماہ کراکس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن میں ایک نیا خفیہ ہتھیار استعمال کیا گیا، جسے "ڈسٹریکٹر" (حواس باختہ کرنے والا) کا نام دیا گیا ہے۔

نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے آج ہفتے کے روز ٹرمپ نے بتایا کہ 3 جنوری کو جب امریکی ہیلی کاپٹر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے لیے کراکس میں اترے، تو اس ہتھیار نے وینزویلا کی فوج کی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا تھا۔ ٹرامپ کے مطابق "اس خفیہ ہتھیار نے دشمن کی تمام فوجی مشینری کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ وہ اپنے روسی اور چینی ساختہ میزائل تک نہیں چلا سکے، ہم نے بس بٹن دبایا اور کچھ بھی کام نہیں کر رہا تھا"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اگرچہ ٹرمپ نے اس ہتھیار کی تکنیکی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم رپورٹس کے مطابق یہ 'پلس انرجی' (Pulse Energy) پر مبنی ہتھیار ہو سکتا ہے، جس کا تعلق "ہوانا سنڈروم" جیسی علامات سے جوڑا جا رہا ہے۔ فیلڈ رپورٹس اور مادورو کے قریبی سکیورٹی اہلکاروں کے بیانات کے مطابق، آپریشن کے دوران اچانک تمام ریڈار سسٹم بند ہو گئے اور بڑی تعداد میں ڈرونز نمودار ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق، امریکی فوجیوں نے ایک ایسی لہر خارج کی جس سے وہاں موجود اہلکاروں کے سروں میں شدید درد ہوا، ان کی ناک سے خون بہنے لگا اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ سکیورٹی اہل کار کا کہنا تھا کہ اس لہر کے بعد ہم حرکت کرنے کے قابل بھی نہیں رہے تھے۔ صدر ٹرامپ نے "نیوز نیشن" کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہمارے پاس ایسے حیرت انگیز ہتھیار موجود ہیں جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، اور میں نہیں چاہتا کہ یہ ٹیکنالوجی کسی اور کے پاس ہو"۔

یاد رہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کے حوالے سے وفاقی الزامات عائد ہیں، جس کی بنیاد پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں