کشنر اور وٹکوف تل ابیب میں[اے ایف پی]
نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کو تعمیری رہی: وٹکوف، اسرائیلی ناراضی کی تردید
واشنگٹن اسرائیل کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اور مشترکہ ترجیحات پر مبنی مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے
امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے دباؤ سے اسرائیلی ناراضی کی خبروں کے درمیان وٹکوف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت بہت اچھی رہی۔ وٹکوف نے ’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جیرڈ کشنر، سینیئر مشیر آریہ لائٹ اسٹون اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جوش گرینبا سمیت امریکی حکام کی نیتن یاہو کے ساتھ غزہ میں امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے بارے میں بات چیت تعمیری رہی۔ یہ امن منصوبہ 20 نکات پر مشتمل ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات چیت تعمیری اور مثبت تھی، جس میں دونوں فریقوں نے اگلے اقدامات اور خطے کے تمام اہم معاملات پر مسلسل تعاون کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن اسرائیل کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اور مشترکہ ترجیحات پر مبنی مضبوط اور دیرینہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قبل آج اس سے قبل اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے کہا کہ اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ ہفتے کے روز نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد ایک اسرائیلی اہلکار نے وٹکوف پر سخت تنقید کی ہے۔
امریکی دباؤ
اسی طرح اس اہلکار ، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی اور رفح کراسنگ کھولنے کے لیے امریکی دباؤ کے بارے میں بات کی تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی موقف اس وقت تک اس سے انکار پر قائم ہے جب تک حماس غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی ران غویلی کی لاش حوالے نہیں کر دیتی۔ اس کے علاوہ بعض اسرائیلی حلقوں نے جنوبی شام میں ترکی کے کردار کو قبول کرنے کے لیے تل ابیب پر امریکی دباؤ پر بھی اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے اسرائیلی حکام نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ وہ رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کو محدود کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تباہ حال فلسطینی علاقے سے باہر جانے والوں کی تعداد واپس آنے والوں سے زیادہ ہو۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
واضح رہے امریکہ کی حمایت یافتہ اور عارضی طور پر غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی عبوری کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے جمعرات کو کہا تھا کہ رفح کراسنگ چند دنوں میں دوبارہ کھلنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے اس کراسنگ کے بارے میں کسی چیز کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس کراسنگ کا غزہ والا حصہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔