Your browser doesn’t support HTML5 video

سعودی عرب عالمی سطح پر صنعتوں میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کی قیادت کے لیے موزوں ملک ہے

اسپارک میں نئی تنصیب جلد قائم کی جائے گی جس سے مقامی طلب اور برآمدات پوری ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہانی ویل کمپنی کے عالمی خطوں کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر انانت ماہیشواری نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب کے پاس صنعتوں اور سپلائی چین میں عملی سطح پر مصنوعی ذہانت کے عالمی استعمال کی قیادت کرنے کے منفرد مواقع موجود ہیں۔ یہ امکانات جدید مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔

ڈاووس فورم کے موقع پر العربیہ بزنس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت ایک نمایاں رجحان عملی میدان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی ایپلیکیشنز جیسے چیٹ جی پی ٹی تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر مینوفیکچرنگ سسٹمز پروڈکشن لائنز اور سپلائی چین میں مصنوعی ذہانت کے انضمام سے جڑا ہوا ہے اور یہ بھی اہم ہے کہ ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد اسے محض خبروں کی سرخی نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت کے طور پر دیکھیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سنہ 2025ء اور سنہ 2026ء کے درمیان مصنوعی ذہانت ایک تصوراتی مرحلے سے نکل کر قابلِ عمل حقیقی مثالوں تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کا شعبہ اس عملی لہر کی قیادت کر رہا ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کو اس میدان میں اختراعات کا نمایاں مرکز بننے کا موقع مل رہا ہے۔

ریفائنریوں میں پیش گوئی کی صلاحیت میں اضافہ

ماہیشواری نے کہا کہ ایک سال قبل انہوں نے توانائی کی ویلیو چین میں خودکار آپریشن کی صلاحیتوں پر بات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران سپلائی چین بالخصوص ریفائنریوں میں پہلے خودکار کنٹرول رومز نے عملی طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ نظام تجرباتی مراحل مکمل کر چکے ہیں اور آئندہ دو یا تین ماہ میں مکمل پیداواری سطح پر کام کرنے لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریفائنری یا توانائی کی ویلیو چین کے اندر پیش آنے والے واقعات کی پیشگی پیش گوئی ممکن ہو گئی ہے اور کسی بھی مسئلے کے رونما ہونے سے پہلے اصلاحی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

ہانی ویل کے لیے تبدیلی کا مرحلہ

انہوں نے کہا کہ ہانی ویل اس وقت تیز رفتار ارتقا کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اعلان کردہ اسٹریٹجک تبدیلی کے تحت ہوابازی اور خلائی صنعت کا شعبہ ایک الگ کمپنی کی صورت اختیار کرے گا جبکہ ہانی ویل کے باقی کاروبار مکمل طور پر آٹومیشن حل فراہم کرنے والی کمپنی میں تبدیل ہو جائیں گے۔ ان میں تین بنیادی شعبے شامل ہوں گے یعنی عمارتیں آپریشنز اور صنعتی شعبہ۔

ماہیشواری نے کہا کہ ماضی میں ہانی ویل کو زیادہ تر پروسیس ٹیکنالوجیز کے حوالے سے جانا جاتا تھا لیکن آج عمارتوں کی آٹومیشن پروسیس آٹومیشن اور صنعتی آٹومیشن وہ تین شعبے ہیں جن میں خلیجی خطے میں کمپنی کی مضبوط موجودگی ہے اور متعدد منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وژن سعودی عرب 2030 اور اس کے بعد سے جڑے بڑے منصوبے ہانی ویل کے عملی کردار کی واضح مثال ہیں اور کمپنی ان طویل المدتی منصوبوں میں سرگرم شراکت دار ہے۔

سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری

قومی حکمت عملیوں بالخصوص سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری علم کی منتقلی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تین واضح مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ہانی ویل جلد ہی کنگ سلمان انرجی سٹی اسپارک میں اپنی نئی تنصیب کا افتتاح کرنے جا رہی ہے جہاں مقامی پیداوار کا نمایاں حصہ شامل ہو گا۔ یہ تنصیب نہ صرف سعودی عرب کی مقامی طلب پوری کرے گی بلکہ برآمدات کے لیے بھی مخصوص ہو گی جس سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور ساتھ ہی سعودی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ ملے گا۔

علم کی منتقلی اور اختراع کے شعبے میں انہوں نے بتایا کہ ہانی ویل کے آرامکو اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے ساتھ گہرے شراکتی تعلقات ہیں۔ یہ ادارے مل کر خام تیل کو براہِ راست کیمیکلز میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا اعلان گذشتہ برس فروری میں کیا گیا تھا اور اب بھی کمپنی اور جامعہ کی سطح پر اس پر کام جاری ہے تاکہ اسے ایک نئی تکنیکی اختراع کی صورت دی جا سکے۔

مہارتوں کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہانی ویل مملکت میں روزگار کے مقامیانے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ کمپنی بڑی تعداد میں نوجوان سعودی صلاحیتوں کو نہ صرف اپنے ہاں ملازمت دیتی ہے بلکہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے انہیں عالمی مقامات پر تجربہ حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے تاکہ وہ نئی مہارتیں اور علم لے کر واپس سعودی عرب آئیں۔

اقتصادی تنوع کے منصوبوں میں مواقع پر بات کرتے ہوئے ماہیشواری نے عملی میدان میں ضم شدہ مصنوعی ذہانت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی مصنوعی ذہانت ہر خطے میں مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس کا انحصار صنعتی شعبوں کی نوعیت ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے حجم دستیاب مہارتوں اور کام کے طریقوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ان عوامل کو نئے آپریشنل ماڈلز میں ڈھالنے میں مدد دیتی ہے اور مستقبل کے لیے افرادی قوت کی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ بالخصوص سعودی عرب میں ایک منفرد موقع اس وجہ سے موجود ہے کہ جدید مینوفیکچرنگ سپلائی چین اور لاجسٹکس کے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری ابتدا ہی سے کی جا رہی ہے اور پرانے انفراسٹرکچر یا موجودہ تنصیبات میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پاس حقیقی موقع ہے کہ وہ دنیا بھر میں اس نوعیت کی مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں