رفح راہداری

رفح سرحد کھولنے کے لیے امریکا، مصر اور اسرائیل کے ہنگامی انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام کے ساتھ ہی خطے میں اہم سفارتی اور سکیورٹی سرگرمیاں تیز ہو گئیں، اور چند ہی گھنٹوں میں رفح کراسنگ کی دوبارہ بحالی کے لیے امریکا، مصر اور اسرائیل کے درمیان عملی انتظامات کا آغاز کر دیا گیا۔

العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق یورپی مانیٹرنگ فورس فلسطینی جانب سے رفح کراسنگ پہنچ چکی ہے، تاکہ اسے کھولنے کی تیاری کی جا سکے۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ معبر کو مصر اور اسرائیل کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت کھولا جائے گا۔

ادھر اسرائیلی ویب سائٹ ''واللا'' نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ رفح کراسنگ بدھ یا جمعرات کو کھول دیے جانے کا امکان ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

صرف پیدل افراد کی آمد و رفت

اسرائیلی جنوبی کمان کی قیادت سے وابستہ ذرائع نے ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ مرحلے میں رفح کراسنگ کو صرف پیدل مسافروں کے لیے دونوں سمتوں میں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ یورپی یونین سے وابستہ سکیورٹی اداروں کا ایک مشن غزہ سے مصر جانے والے فلسطینیوں کی سکیورٹی جانچ پڑتال انجام دے گا، جس کا مقصد مطلوب افراد اور نمایاں کارکنوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

روزانہ کی فہرست

اخبار یدیعوت احرونوت نے منگل کے روز رپورٹ کیا کہ اسرائیل کو روزانہ کی بنیاد پر مصری حکام کی جانب سے رفح کراسنگ کے ذریعے سفر کرنے والوں کے ناموں کی فہرست موصول ہوگی۔ ان فہرستوں کو گزرنے کی اجازت دینے سے قبل اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک کے سامنے سکیورٹی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ادھر قابض اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے پیر کے روز بتایا کہ کابینہ نے اپنے اجلاس میں غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی راستہ کھولنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت افراد کو اسرائیلی براہِ راست سکیورٹی تلاشی کے بغیر غزہ سے مصر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ تلاشی اور جانچ کا عمل یورپی یونین کے مشن اور فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ مقامی عملہ انجام دے گا، جبکہ اسرائیلی نگرانی صرف دور سے ہوگی۔

دو مراحل میں داخلہ

ریڈیو کے مطابق مصر سے غزہ میں داخلہ دو مراحل میں ہوگا:پہلا مرحلہ یورپی یونین کے مشن کی جانب سے ابتدائی جانچ، جبکہ دوسرا مرحلہ اسرائیلی کنٹرول میں واقع علاقے میں اسرائیلی سکیورٹی جانچ ہوگا، جس کا مقصد اسمگلنگ یا غیر مجاز افراد کے داخلے کو روکنا ہے۔ابھی تک آنے جانے والوں کی حتمی تعداد طے نہیں ہو سکی، تاہم اندازے کے مطابق روزانہ چند سو افراد کو آمد و رفت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

حماس کے عناصر بھی

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شاباک، سکیورٹی جائزے کی بنیاد پر داخل ہونے اور باہر جانے والوں کی شناختوں کی پیشگی منظوری دے گا۔ذرائع کے مطابق یہ امکان بھی ہے کہ حماس کے کم درجے کے وہ عناصر جن پر قتل میں ملوث ہونے کا شبہ نہیں، ان کے اہلِ خانہ کو بھی غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

اس سے قبل غزہ کے عبوری انتظام کے لیے مقرر امریکا کی حمایت یافتہ فلسطینی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے گزشتہ جمعرات اعلان کیا تھا کہ رفح کراسنگ جلد دوبارہ کھول دی جائے گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسرائیلی فائرنگ سے دو فلسطینی جاں بحق

منگل کی صبح غزہ شہر کے التفاح محلے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی شہری جاں بحق ہو گئے۔ادھر فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے علی الصبح جنوبی شہر رفح پر فضائی حملے کیے، جبکہ فوجی گاڑیوں کی جانب سے شدید فائرنگ بھی کی گئی۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی توپ خانے نے غزہ شہر اور خان یونس کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحریہ نے خان یونس کے ساحل پر ماہی گیروں کی کشتیوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی۔
وفا کے مطابق 11 اکتوبر کو نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیلی فوج کی جانب سے معاہدے کی 1300 سے زائد خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 1850 سے زیادہ فلسطینی شہری جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں