This photo provided by the North Korean government, shows what it says a test launch of new intercontinental ballistic missile Hwasong-19 at an undisclosed place in North Korea Thursday, Oct. 31, 2024. Independent journalists were not given access to cover the event depicted in this image distributed by the North Korean government. The content of this image is as provided and cannot be independently verified. Korean language watermark on image as provided by source reads: KCNA which is the abbreviation for Korean Central News Agency. (Korean Central News Agency/Korea News Service via AP)
شمالی کوریا نے میزائل داغا ہے جو غالب گمان ہے کہ بیلسٹک ہے : ٹوکیو
جنوبی کوریا کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر کی جانب ایک نا معلوم گولہ داغا ہے
جاپانی کوسٹ گارڈ نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل داغا ہے، جس کے بارے میں گمان ہے کہ وہ بیلسٹک میزائل ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی "ٹاس" کے مطابق جاپانی کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی سرزمین سے "ممکنہ طور پر ایک بیلسٹک میزائل داغا" گیا ہے۔ جاپانی کوسٹ گارڈ نے خطے میں موجود بحری جہازوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر انہیں میزائل کا ملبہ ملے تو اس کے قریب نہ جائیں اور فوری طور پر حکام سے رابطہ کریں۔
دوسری جانب "ایسوسی ایٹڈ پریس" کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا نے منگل کو سمندر کی جانب ایک نامعلوم گولہ داغا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ یہ گولہ شمالی کوریا کے مشرقی ساحل سے دور سمندر میں داغا گیا۔ وزارت نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آیا یہ کوئی میزائل تھا یا توپ خانے کا ہتھیار، اور نہ ہی اس کے طے کردہ فاصلے کے بارے میں کچھ بتایا۔
"فرانس پریس" کے مطابق سالِ نو کے آغاز سے اب تک پیونگ یانگ کا یہ دوسرا تجربہ ہے۔ اس سے قبل 4 جنوری کو بھی کئی میزائل داغے گئے تھے، جو جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے سربراہی اجلاس کے لیے چین روانہ ہونے کے چند گھنٹے بعد کیے گئے۔ یہ تجربات ایک ایسے وقت میں بھی ہوئے جب امریکہ نے کراکس میں ایک آپریشن کے دوران صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا۔ یہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جس سے پیونگ یانگ کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن اس کے اپنے حکام کی گرفتاری کے لیے بھی اپنا سکتا ہے۔
شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں اپنے میزائل تجربات میں اضافہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کا مقصد درست طریقے سے وار کرنے کی اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، امریکہ اور جنوبی کوریا کو چیلنج کرنا اور روس کو برآمد کرنے کے لیے ممکنہ ہتھیاروں کی جانچ کرنا ہے۔
پیونگ یانگ آنے والے ہفتوں میں حکمران ورکرز پارٹی کی کانفرنس منعقد کر رہا ہے، جو پانچ سالوں میں پہلی بار ہو گی۔ اس اہم اجلاس کی تیاری کے طور پر، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون نے ملک میں میزائلوں کی تیاری کو وسعت دینے اور انہیں جدید بنانے کا حکم دیا ہے ۔