موسم الدرعية
سعودی عرب: الدرعیہ ثقافتی میلہ، سیاحوں کی آمد میں 141 فیصد اضافہ
اب تک 13 لاکھ افراد مختلف ثقافتی، سماجی اور فنی پروگراموں میں شرکت کرچکے
سعودی عرب میں الدرعیہ سیزن کے ثقافتی تجربات جاری ہیں ۔ سیزن کی ڈائریکٹر احلام الثنیان نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی سرگرمیوں کے آغاز سے اب تک مملکت کے اندر اور باہر سے 1.3 ملین سے زائد زائرین آ چکے ہیں۔ پچھلے سیزن کے مقابلے میں بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے تناسب میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیزن ایک نمایاں تاریخی ماحول میں عالمی ثقافتی، فنی اور تفریحی تجربات پیش کرتا ہے۔ الدرعیہ سیزن نے 141 فیصد آمدنی حاصل کی ہے اور 2,448 براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں فراہم کی ہیں۔ الدرعیہ سیزن کی ڈائریکٹر احلام الثنیان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جو یہ سیزن دیکھ رہا ہے۔ اس میلے کا کا بڑھتا ہوا ثقافتی کردار بھی واضح ہو رہا ہے۔
’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احلام الثنیان نے سیزن کے اعداد و شمار پیش کیے اور اس ویژن کی تفصیلات بتائیں جس نے الدرعیہ کو ایک عالمی ثقافتی منزل کے طور پر دوبارہ متعارف کرایا ہے۔ الثنیان نے کہا کہ الدرعیہ سیزن ایک واضح ویژن کے تحت آیا ہے جس کا مقصد الدرعیہ کو ایک زندہ تاریخی مقام اور ایک معاصر ثقافتی منزل کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ سب ایسے متوازن پروگراموں کے ذریعے کیا جاتا ہے جو محض ماضی کی یاد نہیں دلاتے بلکہ اسے جدید انداز میں دوبارہ پیش کرتے ہیں تاکہ زائرین اس جگہ کو سمجھ سکیں اور اس کے ساتھ جڑ سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیزن کا ڈیزائن ثقافتی، سماجی اور فنی پروگراموں کے تنوع اور الدرعیہ کے مختلف محلوں میں ان کی احتیاط سے تقسیم پر مبنی ہے۔ یہ سیزن ہر محلے کی خصوصیت اور اس کے تاریخی کردار کی عکاسی کرتا ہے اور زائرین کو ایک مکمل تجربہ فراہم کرتا ہے جو ان کا اس جگہ سے تعلق مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پروگراموں کا یہ تنوع براہ راست زائرین کے تجربے کی نوعیت پر اثر انداز ہوا جہاں تجربہ صرف ایک ہی شکل میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ زائرین کی دلچسپیوں کے مطابق ثقافت، فنون، فطرت، سماجی اور خاندانی تجربات کے درمیان متعدد راستے فراہم کیے گئے۔ تاریخی علاقے ’’ الطوالع ‘‘میں ’’ سوق الموسم ‘‘نے روایتی بازار کے تصور کو معاصر روح کے ساتھ بحال کیا جس میں مملکت کے اندر اور باہر سے زائرین کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔ اس بازار نے نے ثقافتی اور انسانی تعامل کو فروغ دیا۔
محلے "المریح"، جس نے پہلی سعودی ریاست میں ایک زرعی اور ثقافتی مرکز کے طور پر اپنی جگہ بنائی تھی، میں "لیالی الدرعیہ" (درعیہ کی راتیں) پروگرام اس جگہ کی روح سے متاثر ہو کر واپس آیا ہے۔ اس پروگرام کی مقبولیت کی عکاسی سیزن کے دوران اب تک ایک لاکھ سے زیادہ ٹکٹوں کی فروخت اور ریسٹورنٹس میں 40 ہزار سے زائد بکنگز سے ہوتی ہے۔
الدرعیہ سیزن کی شناخت کے بارے میں الثنیان نے واضح کیا کہ یہ شناخت الدرعیہ کی روح اور اس کے تاریخی مقام کا تسلسل ہے۔ سیزن کو "عزک و ملفاک" کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں "عز" کا معنی عزت ہے۔ یہ عزت الدرعیہ کی تاریخی حیثیت کا اظہار ہے۔ ’’ملفیٰ ‘‘ یعنی پناہ گاہ شمولیت اور اس مہمان نوازی کی علامت ہے جو سب کا استقبال کرتی ہے۔
جہاں تک بصری شناخت کا تعلق ہےوہ الدرعیہ کے تاریخی مخطوطات اور ان میں موجود رموز اور نمونوں سے متاثر ہے جو ثقافتی ورثے کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سمعی شناخت 'سامری' فنون پر مبنی ہے جو مقامی وجدان سے جڑے مقبول لوک فنون میں سے ایک ہے۔ اس طرح ایک مربوط شناخت بنتی ہے جو الدرعیہ کو ایک زندہ تاریخ اور معاصر منزل کے طور پر بیان کرتی ہے۔
الدرعیہ سیزن کی ڈائریکٹر نے اپنی بات اس یقین دہانی کے ساتھ ختم کی کہ یہ سیزن اس ثقافتی تصویر کی عکاسی کرتا ہے جس سے مملکت موجودہ مرحلے میں گزر رہی ہے۔ یہاں یہ اپنی جڑوں پر فخر اور دنیا کے لیے کھلے پن کے درمیان توازن کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے۔ اپنے متنوع پروگراموں اور حاصل کردہ معاشی و ثقافتی اشاریوں کے ذریعے الدرعیہ سیزن مملکت میں ہونے والی ثقافتی اور سماجی تبدیلی کی ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ثقافتی میلہ ایک مستحکم اور روشن مستقبل کی جانب بڑھتے ہوئے ایک بااثر علاقائی اور عالمی ثقافتی مرکز بننے کے سعودی عزم کی تصدیق کرتا ہے۔