5 فروری 2026 کو قطر کے امیری دیوان کی طرف سے جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں، جرمن چانسلر فریڈرک مرز (L) کو دوحہ میں قطر کے شیخ تمیم بن حمد الثانی سے مصافحہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مرز 4 فروری کو خلیج کے دورے پر پہنچے، کیونکہ یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت اپنی اہم تجارتی اور توانائی کی شراکت کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ (اے ایف پی)
جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرز نے اپنے دورے کے موقع پر قطر سے وعدہ کیا ہے کہ وہ خلیجی ملک کے ساتھ ہتھیاروں کے سلسلے میں تعاون کو گہرا کریں گے اور دوطرفہ تجارت کو بڑھائیں گے۔ وہ جمعرات کے روز قطر میں تھے ۔ چرمن چانسلر کو خلیجی ملکوں سے توانائی کے سلسلے میں تعاون زیادہ ملنے کی توقع ہے۔
فریڈرک میرز امریکہ کی طرف سے ٹیرف کے حربے کے حالیہ استعمال کے بعد اپنے ملک کو دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارت کے حوالے سے ایک اہم شراکت دار کے طور پر متعارف کرانے کی مہم پر ہیں ۔
جرمن لیڈر اس سے پہلے بھارت ، برازیل ، جنوبی افریقہ وغیرہ کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ جبکہ اسی ماہ کے اواخر میں چین کے دورے پر بھی جانے کاارادہ رکھتے ہیں۔
قطر کے دورے کے دوران چانسلر میرز اپنے ساتھ اپنے دفاعی شعبے کی کمپنیوں کے سربراہان کو بھی ساتھ لائے تھے۔ تاکہ حالیہ برسوں کے مقابلے میں اسلحے اور توانائی کی تجارت کے شعبے میں زیادہ تجارت کا اہتمام کر سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر خلیج میں جرمنی کو ایک زیادہ قابل بھروسہ ملک کے انداز میں پیش کیا ہے۔
فریڈرک میرز نے اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ ہمارے باہمی مفاد اور دلچسپی کے امور ہیں کیونکہ ہم دنیا کو زیادہ محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا کو صرف اسی صورت ہم محفوظ بنانے کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں کہ پہلے اپنے آپ کو محفوظ بنائیں۔
انہوں نے کہا جرمنی بھی قطر سے زیادہ مقدار میں گیس کی خریداری چاہتا ہے۔ گیس کی اس مقدار کو بڑھانے کے بارے میں انہوں نے کہا ہم اسے موجودہ خریداری دو ملین ٹن سالانہ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے قطری امیر کو جرمنی کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔
جرمن لیڈر بدھ کے روز سعودی عرب میں تھے اور جمعرات کو قطر کے دورے کے بعد متحدہ عرب امارات چلے گئے۔