4682987-2092478426

چیک:وزیر اعظم نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم اندریج بابس نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے ہاتھوں میں سوشل میڈیا دینے پر پابندی لگانے کے حق میں ہیں۔

ان کے اس بیان سے یورپی ممالک میں اپنی نئی نسل پر سوشل میڈیا کے مضر اثرات کا بڑھتا ہوا احساس نمایاں ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی یورپی ملکوں کے علاوہ آسٹریلیا بھی سوشل میڈیا پر اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکا ہے تاکہ سوشل میڈیا اور موبائل فون کے حد سے بڑھے ہوئے استعمال کو روکا جا سکے۔

ان ملکوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ان کے بچے سوشل میڈیا کی وجہ سے سنجیدہ تعلیمی سرگرمیوں میں پیچھے رہ جائیں گے۔ تاہم یہ احساس ابھی یورپی ممالک میں ہی موجود ہے۔ تیسری دنیا کے ملکوں خصوصاً مسلم و عرب دنیا میں یہ احساس نہ ہونے کے برابر ہے۔

جو ممالک اب تک بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون کے ذریعے سوشل میڈیا دینے پر پابندی عائد کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں ان میں سپین، یونان ، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ ان سب نے سوشل میڈیا کے اثرات کے خلاف سخت موقف لیا ہے۔

آسٹریلیا نے بھی ماہ دسمبر میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔

یورپی ملک چیک کے وزیر اعظم نے بھی اتوار کے روز اپنی نئی نسل کو بچانے کے لیے کہا ہے کہ مجھے علم ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے بچوں اس سے بچانا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات ویڈیو میسج میں کہی۔

اتوار ہی کے روز بعد ازاں اول نائب وزیر اعظم کارل ہیولک نے ٹی وی کو بتایا ہے کہ کابینہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور یہ رائے بن رہی ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے برے اثرات سے بچانے کے لیے استعمال کو 15 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ممنوع قرار دے دیا جائے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسی سال اس سلسلے میں قانون سازی کر دی جائے گی۔ سپین اور یونان نے پچھلے ہفتے ہی ٹین ایج سے متعلق بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو ممنوع قرار دیا ہے۔ یہ اعلان سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کیا جس کے بعد ایلون مسک نے سخت غصے کا اظہار کیا۔
ایلون مسک کا یہ ردعمل 'ایکس' پر سامنے آیا ہے۔

برطانیہ نے آسٹریلیا میں لگائی گئی پابندیوں کی طرز پر اپنے ہاں ٹین ایجرز پر پابندیوں کا غور کیا ہے۔ جبکہ فرانس نے 15 سال کی عمر تک کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے قانون سازی کر کے پابندی لگانے کا سوچنا شروع کیا ہے۔

یورپی ملکوں کے علاوہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے بھی اس امر پر غور کر ریے ہیں کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے وقت کو بھی کم کرنے اور طلبہ کے سکرین ٹائم کو کم کرنے کا سوچا جائے تاکہ ان کی تعلیم اورذہنی نشونما مثبت انداز میں آگے بڑھتی رہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں