2 مارچ 2014 کو یوکرین اور کریمیا کے علاقے کی صورتحال پر نیٹو کے سفیروں کے اجلاس کے دوران برسلز میں اتحاد کے ہیڈ کوارٹر میں نیٹو کا پرچم لہرا رہا ہے۔ روس یوکرین میں اپنی فوجی کارروائیوں کے ذریعے یورپی ممالک کے امن کو خطرہ بنا رہا ہے اور اسے فوری طور پر کشیدگی میں کمی لانی چاہیے، راسموسن نے اتوار کو کہا۔ REUTERS/Yves Herman (بیلجیئم - ٹیگز: سیاست تنازعہ ملٹری)
نیٹو میں تبدیلیاں، امریکہ نے کئی اہم پوزیشنز اور کمان اتحادیوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا
نیٹو کے مستقبل کے بارے میں صدر ٹرمپ کی سوچ پر عمل کے سلسلے میں عمل کی شروعات کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپ میں کئی نیٹو کمانڈروں کے عہدے امریکہ یورپی ممالک کو منتقل کرنے والا ہے۔
یہ بات پیرکے روز سفارتی ذرائع سے سامنے آئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اتحادی ملکوں کو اپنے دفاع کے معاشی بوجھ میں شریک کرنے کی طرف قدم ہو گا۔
بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں عملی پیش رفت کرتے ہوئے امریکہ نیٹو کی نیپلز کمانڈ اٹلی کے سپرد کرے گا۔ یہ کمانڈ جنوبی یورپ کے امور کی نگرانی کرتی ہے۔ جبکہ شمال کے دفاع کے لیے کمان امریکہ نے برطانیہ کے حوالے کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
اس دوران امریکہ برطانیہ میں میری ٹائم کی کمانڈ سنبھالے گا۔یہ کمانڈ برطانیہ سے متعلق ہے۔
یاد رہے نیٹو میں کمانڈرز کی تبدیلی کے بارے میں یہ رپورٹ ابتدائی طور پر فرانس کے ایک جریدے لا لیٹر نے دی تھی۔ تاہم کہا گیا ان امور کو تکمیل کے درجے تک پہنچانے کے لیے کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
ایک سفارتکار نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا بوجھ کی یہ منتقلی اچھا اشارہ ہے۔ کیونکہ امریکہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ نیٹو اخراجات کا بوجھ یورپی اتحادیوں کی طرف منتقل کرے گا۔ تاکہ خود چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات پر توجہ مرکوز کر سکے۔تاہم نیٹو میں مرکزی کردار امریکہ اپنے پاس ہی رکھے گا۔
ادھر یورپی ممالک نے یوکرین پر روسی جنگ مسلط ہونے کے بعد سے دفاعی اخراجات کو بڑھا دیا ہے اور آنے والے برس میں دفاعی بجٹ میں مزید اضافہ کرنا ہدف قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بارے میں امریکی عزائم سامنے لاکر یورپی ملکوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔
نیٹو کے لیے امریکی سفیر میتھیو وائٹکر نے پیر ہی کے روز ایک الگ سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نیٹو کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔ نہ کہ یہ کہ امریکہ نیٹو کا خاتمہ چاہتا ہے۔ یہ اپنے 32 ارکان کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوگا۔