مادورو کے اغوا کی کارروائی

حیرت انگیز انکشاف: پینٹاگون نے مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جیسے جیسے دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے استعمال کے ضوابط کے حوالے سے فکرمندی بڑھ رہی ہے، بعض ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج نے Anthropic کمپنی کے AI ماڈل Claude کو اس ماہ کے آغاز میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے ایک عمل میں استعمال کیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ امکان اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے کہ پینٹاگون AI ماڈلز پر بڑھتا ہوا انحصار کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ Claude کے استعمال کے رہنما اصولوں میں اسے تشدد میں معاونت، ہتھیار بنانے یا جاسوسی کی کارروائیوں میں استعمال کرنے کی سختی سے ممانعت ہے، جیسا کہ وول اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔

کوئی تبصرہ نہیں

Anthropic کے ترجمان نے اس معاملے پر کہا کہ وہ یہ بیان نہیں دے سکتے کہ Claude یا کوئی اور AI ماڈل کسی مخصوص، خفیہ یا غیر خفیہ کارروائی میں استعمال ہوا یا نہیں۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ Claude کا کوئی بھی استعمال، خواہ پرائیویٹ سیکٹر میں ہو یا سرکاری اداروں کے ذریعے، استعمال کی پالیسیوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا:ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ تمام سرگرمیاں ان پالیسیوں کے مطابق ہوں۔ادھرامریکی محکمہ دفاع نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

مادورو اپنی گرفتاری کے بعد

ماضی میں ذرائع نے بتایا تھا کہ Anthropic کمپنی کے اندر خدشات پیدا ہوئے کہ پینٹاگون کس طرح Claude کو استعمال کر رہا ہے، جس کے باعث انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں نے کمپنی کے 200 ملین ڈالر کے معاہدے کو ختم کرنے پر غور کیا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ Anthropic پہلی کمپنی تھی جس نے AI ماڈل تیار کیا جو ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کی خفیہ کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا تھا۔

مزید برآں ممکن ہے کہ وینزویلا میں اس کارروائی میں دیگر AI ٹولز بھی استعمال ہوئے ہوں، جو غیر خفیہ سرگرمیوں جیسے دستاویزات کے خلاصے یا خودکار ڈرونز کے کنٹرول کے لیے کام آ سکتے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

Anthropic کے CEO داریو آمودی اور دیگر قیادت نے عوامی طور پر ان ماڈلز کی طاقت اور سماج پر پڑنے والے ممکنہ خطرات کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔

آمودی نے کئی صنعت کے رہنماؤں سے مختلف ہوتے ہوئے AI کے ضوابط میں اضافہ اور سخت قوانین بنانے کی بات کی تاکہ اس کے ممکنہ نقصانات کو روکا جا سکے، جیسا کہ وول اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا۔

جنوری میں ایک تقریب میں جس میں پینٹاگون اور کمپنی xAI کے تعاون کا اعلان کیا گیا، امریکی وزیر دفاع بیٹ ہگسٹھ نے کہا کہ محکمہ دفاع ایسے AI ماڈلز استعمال نہیں کرے گا جو جنگ کے لیے اجازت نہ دیں، یہ Anthropic کے ساتھ انتظامیہ کی بات چیت کی جانب اشارہ تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں