شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی
شامی وزیرِ خارجہ: اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں گولان کی پہاڑیوں کا وسیع تر مسئلہ شامل نہیں
شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کے روز کہا کہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر گفتگو ان علاقوں پر مرکوز تھی جن پر اسرائیل نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے اور گولان کی پہاڑیوں کا وسیع تر مسئلہ شامل نہیں تھا۔
اسرائیل اور شام کے نئے حکام نے حالیہ مہینوں میں براہِ راست مذکرات کے کئی ادوار کیے ہیں اور جنوری میں مذاکرات کے بعد جیسا کہ وہ ایک سکیورٹی معاہدے کی طرف بڑھ رہے تو امریکی دباؤ کے تحت انہوں نے انٹیلی جنس کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا۔
میونخ سکیورٹی کانفرنس میں جب الشیبانی سے اسرائیل سے مذاکرات کے دائرہ کار سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بات چیت ان شامی علاقوں سے "اسرائیل کے انخلاء" پر تھی جو الاسد کی بے دخلی کے بعد قبضے میں لیے گئے"، نہ کہ گولان کی پہاڑیوں سے متعلق۔ یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، سکیورٹی معاہدہ طے کرنے کے لیے اسرائیل کو "شام کی سلامتی کا احترام کرنا چاہیے اور حال ہی میں قبضے میں لیے گئے ان علاقوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے"۔
انہوں نے کہا، "یہ مذاکرات یقیناً جنوبی شام میں اسرائیل کی مسلط کردہ شرط قبول کرنے پر ہمیں مجبور نہیں کریں گے۔"
الشیبانی نے مزید کہا، "ان مذاکرات کا اختتام اُن علاقوں سے اسرائیل کا انخلاء" ہو گا جہاں اس نے دسمبر 2024 کے بعد سے "پیش قدمی کی" اور اسرائیل ہماری خودمختاری اور "اندرونی معاملات میں مداخلت" سے باز رہے گا۔
الشیبانی نے جمعے کے روز میونخ میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی اور دمشق اور کردوں کے درمیان حالیہ معاہدے پر تبادلۂ خیال کیا۔
کردوں کے زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سربراہ مظلوم عبدی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
الشیبانی نے میونخ کانفرنس کو بتایا کہ عبدی کے ہمراہ روبیو سے ہونے والا اجلاس "اس نئی ذہنیت کی تصدیق کرتا ہے جو شام آج اختیار کر رہا ہے۔"
انہوں نے کہا، "ہم اپنے قومی شراکت داروں کو دشمن نہیں سمجھتے" اور یہ کہ ملک کی قومی شناخت "شام کے تنوع سے مکمل ہوتی ہے۔"
امریکی فوج نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے داعش کے ہزاروں مشتبہ افراد بشمول کئی شامیوں کی عراق منتقلی مکمل کر لی جو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کردوں کے زیرِ انتظام جیلوں میں برسوں تک قید رہے۔
الشیبانی نے کہا کہ عراق پر بوجھ کم کرنے کے لیے دمشق "مستقبل میں" شامی قیدیوں کو واپس لینے کے لیے تیار ہے۔