دونالد ترامب (فرانس برس)
ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر رہا ہوں: امریکی صدر
ٹرمپ کے مطالبات پورے کرنے والے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں: امریکی رپورٹس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ وائٹ ہاؤس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے کسی محدود حملے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس کے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ ہو سکے تو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں۔ یہ بات رائٹرز نے بتائی ہے۔
اس سے قبل باخبر ذرائع نے "سی این این" کو بتایا کہ امریکی افواج کو ایران پر ممکنہ حملوں کے اہداف کی فہرست موصول نہیں ہوئی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی مخصوص فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم نیٹ ورک نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ اب وہ ایسے کسی معاہدے کے امکانات کم دیکھ رہے ہیں جو امریکی صدر کے تمام مطالبات کو پورا کر سکے۔ اس سے پہلے "وال سٹریٹ جرنل" نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کو معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ایک ابتدائی محدود حملے پر غور کر رہے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اخبار نے مزید کہا کہ تہران کے خلاف ممکنہ امریکی حملے میں فوجی اور حکومتی مقامات شامل ہوں گے۔ اخبار نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی ختم کرنے سے انکار کیا تو واشنگٹن اس کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کا سہارا لے گا۔ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کسی نہ کسی طریقے سے معاہدے کی طرف بڑھے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر تہران نے جواب نہ دیا اور پیش کردہ مفاہمت پر اتفاق نہ کیا تو بُرے واقعات پیش آئیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی آپشن اب بھی موجود ہے لیکن یہ ہمیشہ کے لیے کھلا نہیں رہے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دوسری طرف اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط بھیجا جس میں امریکی صدر کے بیانات کو فوجی جارحیت کے حقیقی امکان کا اشارہ قرار دیا گیا۔ ایرانی خط میں وضاحت کی گئی ہے کہ تہران کشیدگی نہیں چاہتا اور جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن فوجی حملہ ہونے کی صورت میں جواب دے گا۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا کہ اصل قوت کے تمام اڈے اور تنصیبات جائز اہداف ہوں گے۔