28 جولائی 2019 کو لی گئی اس تصویر میں ایک عمارت سے لٹکائے گئے اسرائیلی لیکوڈ پارٹی کے دو بڑے انتخابی بینرز دکھائے گئے ہیں جن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو عبرانی نتن یاہو میں اوپر کیپشن کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے مصافحہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ایک اور لیگ میں، بحیرہ روم کے ساحلی شہر تل ابیب میں۔ (فائل/اے ایف پی)
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز اسرائیل کے سرکاری دورے پر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے شراکت دار مودی اپنے دورے کے موقع پر اسرائیلی پارلیمان سے بھی خطاب کریں گے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا۔
نیتن یاہو نے بھارت و اسرائیل کے درمیان تعلقات کے گہرا اور اہداف کے مشترکہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا ہمارے آپس کے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے موقع پر ہم اسے مزید گہرا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت و اسرائیل کے درمیان معاشی و سلامتی کی سطح کے ساتھ ساتھ سفارتی تعلقات بھی غیر معمولی ہیں۔ نریندر مودی اس سے پہلے 2017 میں بھی اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں۔
نیتن یاہو نے بھی اسی سال بھارت کا دورہ کیا تھا۔ تاہم اب نیتن یاہو کو بیرونی دوروں پر جانے میں کافی احتیاط کرنا پڑتی ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے سلسلے میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ نریندر مودی کو بھی ایک عرصے تک امریکہ نے اپنے ہاں آنے سے روکے رکھا کہ ان پر گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے سلسلے میں کئی سنگین الزامات تھے۔ تاہم وزیر اعظم بننے کے بعد امریکہ نے ان پر سے یہ پابندی ہٹا دی ہے۔