امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کی جنگ کا خاتمہ قریب ہے:امریکی صدر ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر کہا کہ ایران پر جاری جنگ ''جلد ختم'' ہو جائے گی اور ملک میں نشانہ بنانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔

اخباری ویب سائٹ اکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا:کم و بیش کچھ باقی نہیں جو نشانہ بنایا جا سکے۔ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ جیسے ہی میں چاہوں گا کہ یہ رک جائے، یہ رک جائے گی۔

ٹرمپ کی یہ باتیں جنگ کے مقاصد اور اختتام کے وقت کے حوالے سے متضاد بیانات کے درمیان آئی ہیں، لیکن وہ جنگ کے جلد ختم ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا۔

صدر ٹرمپ پر تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ وائٹ ہاؤس نے جنگ شروع کی لیکن اس کے اثرات کے لیے تیاری نہیں کی، خاص طور پر ایران کی جانب سے تیل بردار جہازوں کی ہرمز کے پانیوں میں نقل و حرکت روکنے کے خطرے کے پیش نظر۔

بدھ کو خلیج میں دو تجارتی جہاز بھی نامعلوم گولوں سے نشانہ بنے، جس سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:میں سمجھتا ہوں کہ آپ بہت جلد کافی حد تک محفوظ دیکھیں گے۔

یہ تبصرہ انہوں نے امریکا میں معاشی دورے کے آغاز پر کیا، جس کا مقصد اقتصادی استعداد بڑھانا ہے۔

صدر نے کہا کہ امریکی فورسز نے ایک ہی رات میں ایرانی باردوی سرنگیںبچھانے والی زیادہ تر کشتیوں کو تباہ کر دیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ایران نے واقعی پانی کے راستے کو بارودی سرنگوں سے خطرناک نہیں بنایا۔

ٹرمپ نے دوبارہ کہا کہ ایران شکست کے قریب ہے اور اس کے فضائی، بحری اور دفاعی نظام اور قیادت کو نقصان پہنچا ہے، تاہم انہوں نے وضاحت کی:ہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے مقاصد میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرنا شامل ہے، جبکہ نظام کی تبدیلی واضح طور پر مقاصد میں شامل نہیں، اگرچہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اس کا شبہ بڑھ گیا۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے پوچھے جانے پر کہ آیا مجتبی خامنہ ای کے اقتدار میں آنے پر فتح کا اعلان کریں گے یا نہیں، کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں پر حملے ہوئے تو وہ خطے کی بندرگاہوں کو نشانہ بنائے گی۔

ادھر سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا کہ ایران کے پانیوں میں موجود بندرگاہوں کے قریب نہ جائیں، کیونکہ ایران انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی فوج پر الزام ہے کہ جنگ کے پہلے دن ایک ابتدائی اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس میں بچوں کو نقصان پہنچا۔

ٹرمپ نے اس رپورٹ کے بارے میں کہا:مجھے اس کے بارے میں علم نہیں۔

توقعات ہیں کہ ٹرمپ انتخابات کے اثرات سے بچنے کے لیے جنگ کو جلد ختم کرنا چاہیں گے۔

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع یسریائل کاٹز نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مشترکہ جنگ ایران کے خلاف بغیر کسی وقت کی حد کے جاری رہے گی، جب تک تمام مقاصد حاصل نہ ہو جائیں۔

ایران نے بھی اپنی مکمل تیاری ظاہر کی ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو اعلان کیا کہ انہوں نے ابنائےہرمز میں ایک اسرائیل کی ملکیت والی لائبرین جہاز اور ایک تھائی لینڈ کی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، کیونکہ انہوں نے ایرانی فورسز کی رکنے کی تنبیہات کو نظرانداز کیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں