ميناء سعودي ميناء الملك فهد بينبع

سعودی عرب کی بندرگاہوں پر سپلائی چین کو یقینی بنانے کے لیے 5 نئی بحری خدمات کا آغاز

عالمی سطح کی بڑی شپنگ کمپنیوں کے تعاون سے شروع کی گئی ان خدمات کی مجموعی گنجائش 63,594 معیاری کنٹینرز تک پہنچ گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بندرگاہوں کی جنرل اتھارٹی نے آبنائے ہرمز میں تناؤ کے آغاز کے بعد سے اب تک 5 نئی بحری شپنگ سروسز کا اضافہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد لوجسٹک سیکٹر کی لچک کو بڑھانا اور سپلائی چین اور سامان کی روانی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "SPA" کے مطابق یہ خدمات عالمی سطح کی بڑی شپنگ کمپنیوں بشمول MSC، CMA CGM،Maersk اور Hapag-Lloyd کے تعاون سے شروع کی گئی ہیں، جو علاقائی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سعودی بندرگاہوں کی آپریشنل تیاری اور کارکردگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان نئی سروسز میں GULF SHUTTLE ، REDEX، JADE، AE19 اور SE4 شامل ہیں، جو مملکت کی بندرگاہوں کو متعدد علاقائی اور بین الاقوامی مقامات سے جوڑتی ہیں۔

ان خدمات کی مجموعی گنجائش تقریباً 63,594 معیاری کنٹینرز تک پہنچ گئی ہے، جس سے سعودی بندرگاہوں کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کو شپنگ کے زیادہ لچک دار مواقع میسر آئے ہیں۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد اہم بحری راستوں، بالخصوص آبنائے ہرمز میں درپیش چیلنجوں کے اثرات کو کم کرنا اور بحیرہ احمر کے ذریعے بحری رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ کوششیں سعودی عرب کو ایک عالمی لوجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کرنے اور بین الاقوامی تجارت کی نقل و حرکت میں سعودی بندرگاہوں کی ساکھ کو مزید بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں