علم بريطانيا في الحي المالي في لندن اقتصاد بريطانيا - (آيستوك)

برطانیہ میں جاسوسی کے الزامات پر ایرانی سفیر کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزارت خارجہ نے پیر کے روز لندن میں ایران کے سفیر سید علی موسوی کو طلب کر کے تہران کے ان اقدامات پر کڑی تنقید کی جنہیں اس نے برطانیہ اور اس سے باہر لاپرواہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیاں قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ طلبی حال ہی میں دو افراد پر عائد کیے گئے الزامات کے بعد عمل میں آئی ہے جن میں سے ایک ایرانی شہری ہے اور دوسرے کے پاس برطانوی و ایرانی دوہری شہریت ہے۔ ان دونوں پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کو امداد فراہم کرنے کے شبہے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ حکومت برطانوی عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ اندرون اور بیرون ملک ایران کی لاپرواہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کو بے نقاب بھی کیا جائے گا۔

لندن میں اسرائیلی کمیونٹی کی نگرانی

دو ایرانی باشندے جمعرات کو لندن کی ایک عدالت میں پیش ہوئے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے تہران کے لیے برطانوی دارالحکومت میں اسرائیلی کمیونٹی کی جاسوسی کی۔ اس جاسوسی میں ایک یہودی عبادت گاہ جیسے ممکنہ اہداف کی ریکی کرنا بھی شامل ہے۔ برطانوی پولیس، داخلی انٹیلی جنس ایجنسی (MI5) اور پارلیمنٹ کے ارکان طویل عرصے سے ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کرتے رہے ہیں جو اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔

گزشتہ سال 9 جولائی سے 15 اگست کے درمیان 40 سالہ نعمت اللہ شاہسافانی (ایرانی نژاد برطانوی شہری) اور 22 سالہ علی رضا فراسات (ایرانی شہری) پر ایسے رابطوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا جن سے کسی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کو مدد ملنے کا امکان تھا۔ پراسیکیوٹر لوئیس ایٹریل نے گزشتہ ہفتے عدالت کو بتایا کہ ان دونوں افراد پر اسرائیلی کمیونٹی سے وابستہ مقامات اور افراد کی معاندانہ نگرانی کے ذریعے ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد کرنے کا شبہ ہے۔

بڑھتے ہوئے خدشات

پولیس نے ہفتے کے روز یہ بھی کہا تھا کہ ایک ایرانی مرد اور ایک رومانی خاتون پر برطانوی ایٹمی آبدوزوں کے اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ انہیں جمعرات کو سکاٹ لینڈ میں "فاسلین" بیس میں گھسنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جہاں برطانیہ کا "ٹرائیڈنٹ" نامی ایٹمی دفاعی نظام موجود ہے جو ٹرائیڈنٹ بیلسٹک میزائلوں سے لیس چار آبدوزوں پر مشتمل ہے۔

یہ واقعات ان خدشات کے سائے میں سامنے آ رہے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ میں کردار کی وجہ سے برطانیہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ نے امریکی افواج کو ایران کے خلاف بعض کارروائیاں کرنے کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں