A satellite image shows new reactors under construction at the Bushehr site in Iran in this handout image dated January 1, 2025. Maxar Technologies/Handout via REUTERS THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY MANDATORY CREDIT NO RESALES. NO ARCHIVES MUST NOT OBSCURE LOGO
روس کی جوہری کارپوریشن روساٹم کے سربراہ الیگزی لکاچیف نے ایران کے جوہری توانائی کے پلانٹ بوشہر پر حالیہ حملہ حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو خطرناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسلسل بدترین حالت کی طرف جا رہی ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے کو ایران کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی کہ اس کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کو بمباری کا ہدف بنایا گیا ہے۔ جس سے ممکنہ خطرات کی طرف توجہ دلائی گئی۔
روسی جوہری کارپوریشن کے سربراہ نے کہا حملہ جو شام چھ بجے منگل کے روز ہوا تھا اس سے ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم اس سے قریبی ایریا بھی بمباری کا نشانہ بنا ہے۔ جس میں جوہری توانائی پلانٹ کا آپریشنل حصہ موجود تھا۔
انہوں نے مزید کہا روسی جوہری کارپوریشن نے علاقے سے لوگوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ جن میں سے ایک گروپ ایران اور آرمینیا کی درمیانی سرحد کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔ جبکہ دو دیگر گروپ بھی فوری طور پر روانہ ہونے والے ہیں۔
کارپوریشن کے سربراہ کے مطابق جب تک بوشہر میں صورتحال مستحکم نہیں ہو جاتی پلانٹ پر کام کرنے والے سٹاف کی تعداد کو کم کیا جائے گا اور یہ انتہائی کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔