social-media-revolution

پہلی بارسوشل میڈیا کی لت کے باعث انسٹاگرام اور یوٹیوب کے خلاف فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان کی سروسز استعمال کرنے والے بچوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے دائر ایک منفرد مقدمے میں کیلیفورنیا کی جیوری نے فیصلہ سناتے ہوئے میٹا اور یوٹیوب دونوں کو ذمہ دار قرار دے دیا اور مدعیہ کو 30 لاکھ ڈالر ہرجانہ دینے کا حکم دیا۔

جیوری نے نو دن تک جاری رہنے والی کارروائی اور 40 گھنٹوں سے زائد مشاورت کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ میٹا اور یوٹیوب نے اپنی پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور آپریشن میں غفلت برتی۔

نفسیاتی مسائل

جیوری نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دونوں کمپنیوں کی غفلت مدعیہ کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بنیادی وجہ بنی ہے۔

مدعیہ ایک 20 سالہ نوجوان خاتون ہے، جس کا کہنا ہے کہ بچپن میں سوشل میڈیا کے استعمال نے اسے ٹیکنالوجی کا عادی بنا دیا اور اس کی نفسیاتی مشکلات میں اضافہ کیا۔

جج کیرولین بی کول نے بھی تصدیق کی کہ جیوری نے عدالت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

انہوں نے حاضرین اور میڈیا کو خبردار کیا کہ فیصلے پر کسی قسم کا عوامی ردعمل ظاہر نہ کیا جائے، چاہے وہ کیسا بھی ہو۔

انہوں نے کہا: نہ کوئی شور، نہ ردعمل، نہ ہی خلل ڈالا جائے ۔ مزید کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں میٹا اور یوٹیوب (جو گوگل کی ملکیت ہے) آخری مدعا علیہان تھے، جبکہ ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ پہلے ہی مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل تصفیہ کر چکے تھے، جیسا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں