فائل فوٹو وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف

امریکہ ایران مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے: شہباز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کی صبح کہا کہ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ، ہر جگہ فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر لکھا کہ جنگ بندی میں لبنان سمیت دیگر علاقے بھی شامل ہیں، اور یہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہے۔

’میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ میں ان کے وفود کو جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’دونوں فریقین نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت انداز میں رابطے میں رہے ہیں۔

’ہمیں امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘

قبل ازیں ایک امریکی اخبار نے ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا پہلا دور 10 اپریل کو اسلام آباد میں متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور طویل مدتی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر دونوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو مذاکرات کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر ایران کی حالیہ پیش رفت اور میدانِ جنگ میں حاصل کامیابیوں کو سیاسی سطح پر تسلیم کروانا ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر ایک بیان جاری کیا ہے جسے وائٹ ہاؤس نے بھی شیئر کیا۔

اس بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’میں ایران کی جانب سے اپنے عزیز برادران، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہہ دل سے شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ میں کی گئی برادرانہ درخواست کے جواب میں، اور امریکہ کی جانب سے اس کی 15 نکاتی تجویز کی بنیاد پر مذاکرات کی درخواست کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کے ایران کی 10 نکاتی تجویز کے عمومی فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو دیکھتے ہوئے، میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں:

’اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو ہماری طاقتور مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔

دو ہفتوں کی مدت کے لیےآبنائے ہرمز سے محفوظ گزر ممکن ہوگا، بشرطیکہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کی جائے اور تکنیکی حدود کا خیال رکھا جائے۔‘

قبل ازیں عباس عراقچی نے بتایا تھا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر حملے مکمل طور پر روک دیے جائیں تو ایران بھی اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے آبنائے ہرمز سے آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں