برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر

سٹارمرکا خلیجی ممالک کا دور ہ کر کے ہرمز کی گزرگاہ کے کھلے رہنے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے بدھ کے روز کہا کہ کیئرسٹارمر مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے تاکہ خلیج کے شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کریں اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ہرمز کی تنگ گزرگاہ مستقل طور پر کھلی رہے۔

سٹارمر نے ایک بیان میں کہا: میں رات بھر ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کو خوش آمدید کہتا ہوں، جو خطے اور دنیا کے لیے سکون کا لمحہ فراہم کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا: ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے، اپنے شراکت داروں کے تعاون سے تاکہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے، اسے مستقل معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے اور ہرمز کی گزرگاہ دوبارہ کھولی جا سکے۔

سٹارمر جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی حمایت نہ کرنے پر سخت تنقید کا سامنا رہا، نے متعدد بین الاقوامی اجلاس منعقد کیے تاکہ حلیفوںکے ساتھ مل کر تیل اور گیس کی تجارت کے لیے اس اہم گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔

برطانوی بیان میں کہا گیا کہ سٹارمر دورے کے دوران یہ مذاکرات کریں گے کہ کس طرح جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے، مستقل حل نکالا جائے اور برطانیہ اور عالمی معیشت کو مزید خطرات سے بچایا جا سکے۔

یہ دورہ اس سے پہلے تیار کیا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی منظوری دی، یہ اس سے دو گھنٹے پہلے ہوا جب ایران کو ہرمز کی گزرگاہ دوبارہ کھولنے یا اپنی بنیادی شہری انفراسٹرکچر پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے آخری مہلت دی گئی تھی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں