رسم تخيلي لإحدى المعارك بالحرب الأهلية الأميركية
ایران سے پہلے، تاریخ کے مشہور بحری محاصروں کی دلچسپ کہانیاں
جاپان کے خلاف محاصرے اور بھوک کی حکمتِ عملی نے جنگی صنعتی پیداوار کو شدید متاثر کیا اور جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔
اپنے حالیہ بیانات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے عدم دلچسپی ظاہر کی۔
اسی دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے گا اور ایران کو تیل فروخت سے روکنے کے لیے اس پر بحری محاصرہ عائد کرے گا۔
تاریخ میں اس سے قبل بھی کئی ممالک بحری محاصروں کا سامنا کر چکے ہیں، جن کا مقصد ان کی معیشت کو کمزور کرنا اور انہیں بنیادی اشیاء سے محروم کرنا تھا۔
کیوبا کو 1962 میں سوویت میزائل بحران کے دوران محاصرے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ برطانیہ، جرمنی اور امریکہ جیسے ممالک بھی مختلف ادوار میں اس کا حصہ رہے ہیں۔
نپولین بوناپارٹ کا براعظمی محاصرہ
1805 میں ٹرافلگر کی جنگ میں فرانسیسی بحریہ کی برطانوی بحریہ سے شکست کے بعد نپولین بوناپارٹ کو اندازہ ہو گیا تھاکہ برطانیہ پر براہِ راست حملہ ممکن نہیں۔
چنانچہ اس نے برطانیہ کی معیشت کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا اور یورپی منڈیوں سے اسے محروم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔
پروسیا پر فتح کے بعد 21 نومبر 1806 کو نپولین نے ''برلن فرمان'' جاری کیا، جس کے تحت برطانیہ کے ساتھ تجارت پر پابندی لگا دی گئی اور اس کی مصنوعات کو ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔
ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا گیا کہ جو جہاز برطانوی بندرگاہوں سے منسلک پائے جائیں گے، انہیں قبضے میں لے لیا جائے گا۔اسی اقدام کو ''براعظمی محاصرہ'' کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں نپولین نے کئی یورپی ممالک کو اس محاصرے میں شامل ہونے پر مجبور کیا اور ان کی بندرگاہیں ،برطانیہ کے لیے بند کروا دیں۔
تاہم 1812 میں روس میں فرانسیسی فوج کی شکست کے بعد یہ نظام کمزور پڑنا شروع ہوا اور 1814 تک مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
پہلی جنگ عظیم میں برطانوی جنگی جہاز
شمال کی جانب سے جنوب کا محاصرہ
ابراہم لنکن کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکہ کی جنوبی ریاستیں جو غلامی کی حامی تھیں، یونین سے علیحدگی کا اعلان کرنے لگیں۔
اپریل 1861 میں فورٹ سمٹر پر حملے کے بعد امریکی خانہ جنگی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔جنگ کے دوران شمالی ریاستوں نے ''انا کونڈا منصوبہ ''اپنایا، جس کا مقصد جنوبی ریاستوں کو کمزور کر کے انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا۔
اس حکمت عملی کے تحت شمال نے جنوبی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کر دیا اور ان پر سخت نگرانی قائم کر دی تاکہ وہ یورپ کو کپاس برآمد نہ کر سکیں اور نہ ہی ہتھیار درآمد کر سکیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ جنوب میں اسلحے اور خوراک کی شدید کمی پیدا ہو گئی، جبکہ مہنگائی میں اضافہ ہو گیا۔ اس معاشی دباؤ نے جنوبی ریاستوں کی معیشت کو بری طرح کمزور کر دیا۔
بالآخر یہی بحری محاصرہ اہم کردار ادا کرتے ہوئے 1865 میں جنوبی ریاستوں کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کا باعث بنا۔
آپریشن ایناکونڈا کی کارٹون ڈرائنگ
پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کا محاصرہ
پہلی عالمی جنگ کے آغاز پر جرمنی کی معیشت کا بڑا انحصار سمندری درآمدات پر تھا۔ اسی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانیہ کی رائل نیوی نے جرمنی کو کمزور کرنے کے لیے بحیرہ شمال میں سخت بحری محاصرہ نافذ کیا اور تجارتی جہازوں پر کڑی نگرانی شروع کر دی۔
برطانوی بحریہ نے غیر جانبدار ممالک کے جہازوں جیسے ڈنمارک کے جہازوں کی بھی تلاشی لی تاکہ جرمنی تک کسی بھی قسم کی اسمگلنگ نہ ہو سکے۔
اس محاصرے کے ذریعے برطانیہ نے جرمن صنعتوں کو تیل، ربڑ، کوئلہ اور لوہے جیسے بنیادی وسائل سے محروم کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں یہی پابندیاں شدید غذائی قلت اور قحط کا سبب بنیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بھوک اور غذائی کمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
جواب میں جرمنی نے آبدوزی جنگ کا راستہ اپنایا اور اپنی آبدوزوں کے ذریعے برطانیہ کی طرف جانے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
آپریشن سٹارویشن
1945 کے آغاز میں امریکہ نے بحرالکاہل کے محاذ پر جنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے جاپان کے خلاف سخت حکمت عملی اپنائی۔
اس مرحلے پر امریکی فوجی قیادت نے جاپان کی سمندری سپلائی لائنز کو نشانہ بنانے اور اسے بنیادی ضروریات سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا۔
جاپان کی معیشت اور جنگی صنعت بڑی حد تک سمندری راستوں سے آنے والے تیل، ربڑ اور لوہے پر انحصار کرتی تھی، اس لیے ان راستوں کو بند کرنا انتہائی مؤثر حکمت عملی ثابت ہوا۔
مارچ 1945 کے آخر میں شروع ہونے والی ''آپریشن سٹارویشن'' کے تحت امریکی طیاروں نے جاپانی بندرگاہوں اور تجارتی راستوں میں 10 ہزار سے زائد بحری بارودی سرنگیں (mines) نصب کیں۔
اس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 670 جاپانی بحری جہاز تباہ ہوئے، جس سے نہ صرف فوجی نقل و حمل متاثر ہوئی بلکہ صنعتوں کو بھی ضروری خام مال کی فراہمی رک گئی اور جنگی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔