94c75d78-8004-49fe-8a5b-019c6dab65d8

سعودی عرب: چھ گھنٹے طویل سرجری کے بعد جڑے ہوئے بچوں کی علیحدہ کردیا گیا

20 دن کی سعودی بچیاں سینے کے نچلے حصے اور پیٹ سے جڑی ہوئی تھیں، آپریشن میں بچوں کی جان کو 40 فیصد خطرہ لاحق تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جڑے ہوئے بچوں کو علیحدہ کرنے کے پروگرام کی طبی اور جراحی ٹیم نے ایک ہنگامی آپریشن سرانجام دیا۔

یہ آپریشن ریاض میں وزارتِ نیشنل گارڈز کے ماتحت ’’ کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی ‘‘ میں واقع ’’ کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرن ہسپتال ‘‘ میں سعودی دھڑ جڑی بچیوں کو الگ کرنے کے لیے کیا گیا۔ یہ سرجری 6 مراحل پر محیط تھی اور ساڑھے چھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس میں 23 کنسلٹنٹس، ماہرین اور نرسنگ و ٹیکنیکل سٹاف نے حصہ لیا۔

کنگ سلمان ریلیف اینڈ ہیومینیٹیرین ایڈ سینٹر کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے وضاحت کی کہ بچیوں کی عمر تقریباً 20 دن ہے۔ وہ سینے کے نچلے حصے اور پیٹ کے مقام سے جڑی ہوئی پیدا ہوئی تھیں تاہم دونوں کے اوپری اور نچلے اعضاء مکمل تھے۔ ڈاکٹر الربیعہ نے مزید بتایا کہ میڈیکل ٹیم کے اجلاس کے بعد مختلف طبی معائنوں سے معلوم ہوا کہ دونوں کا مجموعی وزن تقریباً پانچ کلوگرام ہے۔

ان کا جگر، معدہ اور آنتیں آپس میں جڑی ہوئی تھیں ۔ پیٹ کی دیوار میں پیدائشی نقص کی وجہ سے ایک بیرونی تھیلی بھی موجود تھی۔ یہ تھیلی معدے پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہی تھی جس سے خوراک لینے میں دشواری ہو رہی تھی اور اس آپریشن میں جڑواں بچوں کی جان کو خطرے کا تناسب 40 فیصد تھا۔

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ یہ آپریشن سعودی پروگرام کے تحت 69 واں کامیاب آپریشن ہے۔ اس پروگرام نے 1990 سے اب تک دنیا بھر کے 5 براعظموں کے 28 ممالک سے تعلق رکھنے والے 157 جڑواں بچوں کی دیکھ بھال کی ہے۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کے کاموں میں مملکتِ سعودی عرب کے قائدانہ کردار کی بھی تصدیق کی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں