واشنگٹن نے اسلام آباد مذاکرات سے قبل بحری ناکہ بندی کے ایک حصے کے طور پر ایرانی جہاز توسکا کو حراست میں لے لیا۔

ایران جنگ

بحری جہاز 'توسکا' پر امریکی حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے : ایرانی وزارت خارجہ

وزارت نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز کے عملے کو فوری طور پر رہا کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقامی میڈیا نے ایرانی وزارت خارجہ کے حوالے سے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے ساحل کے قریب ایک ایرانی تجارتی جہاز "توسکا" پر حملہ کیا ہے۔ ایران نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی "غیر قانونی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے جہاز اور اس کے عملے سمیت ان کے اہل خانہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ رواں ماہ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اور واشنگٹن کسی بھی قسم کی کشیدگی کا ذمہ دار ہوگا۔

بحری سکیورٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی پرچم والے اس کنٹینر جہاز کو امریکی افواج نے اتوار کو قبضے میں لیا تھا۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ اس جہاز پر ایسا مواد موجود ہے جو شہری اور عسکری دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ "میرین ٹریفک" کے ڈیٹا کے مطابق اس چھوٹے کنٹینر جہاز کو خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ چابہار کے قریب روکا گیا۔ یہ جہاز ایران کی اس شپنگ لائن کا حصہ ہے جس پر امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا دعویٰ ہے کہ "توسکا" کے عملے نے 6 گھنٹے تک مسلسل دیے جانے والے انتباہات کو نظر انداز کیا اور یہ جہاز امریکی بحری محاصرے کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایشیا سے آنے والے اس جہاز میں پائپ، دھاتیں اور الیکٹرانک پرزے شامل ہیں جنہیں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکہ پر "مسلح قزاقی" کا الزام لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ جہاز چین سے آ رہا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس "کھلی جارحیت" کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، لیکن جہاز پر عملے کے اہل خانہ کی موجودگی کی وجہ سے وہ صبر سے کام لے رہی ہے۔ امریکہ نے 2019 میں اس شپنگ کمپنی پر پابندیاں لگائی تھیں، اسے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے مواد منتقل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی امریکہ کی جانب سے ایرانی جہاز کو زبردستی روکنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کریں۔

امریکی صدر نے "ٹروتھ سوشل" پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ "توسکا" اپنی سابقہ غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے پابندیوں کی زد میں ہے اور امریکی افواج اس پر موجود سامان کی تلاشی لے رہی ہیں۔ امریکی بحریہ نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ ایران کا بحری محاصرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور ممنوعہ اشیاء (بشمول اسلحہ و گولہ بارود) لے جانے والے کسی بھی مشتبہ جہاز کی تلاشی لی جائے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں