شام کے لیے امریکی سفیر ٹوم براک
تنقید کے بعد... ٹوم براک کی مشرقِ وسطیٰ کے لیے "عملیت پسندانہ نقطہ نظر" پر گفتگو
شام کے لیے امریکی سفیر ٹوم براک نے گذشتہ ہفتے انطالیہ سفارتی فورم کے دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو ایک "عارضی وقفہ" قرار دینے اور فریقین کو یکساں طور پر ناقابلِ بھروسہ کہنے پر امریکیوں اور اسرائیلیوں کی جانب سے ہونے والی تنقید کے بعد، اپنے تبصروں کو "حقیقت پسندانہ" قرار دیا ہے۔
فوکس نیوز کے مطابق ٹوم براک نے جمعرات کے روز زور دے کر کہا کہ ان کا بیان امریکی پالیسی میں کسی تبدیلی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا "طاقت کے ذریعے امن" کا نظریہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے زیادہ عملی نقطہ نظر کا تقاضا کرتا ہے۔
ٹوم براک
امریکی سفیر نے مزید کہا کہ وہ ایران اور اس کے ہم نواؤں پر صدر ٹرمپ کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہیں، جس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمارا مقصد ہمیشہ سے حزب اللہ کے دہشت گردانہ ڈھانچے کو اس حد تک کمزور کرنا رہا ہے کہ سفارت کاری اور ایک خودمختار لبنانی ریاست، لبنان کے فرقہ وارانہ نظام کے اندر مسیحی، سنی اور شیعہ مفادات کے تحفظ کے ساتھ معاملات سنبھال سکے۔" انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کسی دہشت گرد تنظیم کو سیاسی طور پر قبول کرنے کی جانب تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وہی "زیادہ سے زیادہ دباؤ اور ذہین سفارت کاری" کا تسلسل ہے جو اس انتظامیہ نے داعش اور دیگر خطرات کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا۔
ٹوم براک
واضح رہے کہ ٹوم براک کو کچھ عرصہ قبل اس وقت بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جب انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے بجائے "مضبوط حکمرانی" کی بات کی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی مراد ایک مضبوط مرکزی حکومت اور ریاستی اختیارات کا استحکام تھا۔ اسی طرح چند ماہ قبل صحافیوں پر تنقید کے باعث بھی لبنان میں ان کے حوالے سے تنازع کھڑا ہوا تھا، جس پر بعد میں انہوں نے پیدا ہونے والی غلط فہمی کو دور کر دیا تھا۔