نائب الرئيس الأميركي جيه دي فانس (أرشيفية من فرانس برس)
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی ممکنہ بحالی کے تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس بار بات چیت کے عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔
امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق وینس کا اسلام آباد نہ جانا سفارتی سطح پر نمائندگی میں کمی کو ظاہر کرتا ہے، جو مذاکرات کے گذشتہ دور میں کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔
سفارتی ضابطوں کے عین مطابق
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نائب صدر کی عدم شرکت سفارتی ضابطوں کے عین مطابق ہے، کیونکہ ایران نے بھی اپنے سینئر مذاکرات کار اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قاليباف کو نہیں بھیجا۔
پروٹوکول کے تحت نائب صدر صرف اسی صورت میں طویل سفر کر کے پاکستان جاتے جب ان کے مد مقابل اسی سطح کا کوئی عہدے دار موجود ہوتا۔ اگرچہ اسپیکر پارلیمنٹ تکنیکی طور پر نائب صدر کے برابر نہیں ہوتا، تاہم وائٹ ہاؤس نے گذشتہ مذاکرات میں قاليباف کو وینس کا ہم پلہ تسلیم کیا تھا۔
میڈیا ردعمل کو سنبھالنا
حکام کا مزید کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کی عدم موجودگی سے وائٹ ہاؤس کے لیے میڈیا کے ردِ عمل کو سنبھالنا آسان ہو گا، خاص طور پر اس صورت میں جب ایران مذاکرات سے پیچھے ہٹ جائے یا ناقابلِ قبول مطالبات پیش کر دے۔
صدارتی طیارے اور سخت سکیورٹی پروٹوکول کی موجودگی سے مذاکرات سے وابستہ توقعات بہت بڑھ جاتی ہیں، جس کے باعث کسی بھی ممکنہ ناکامی کی صورت میں سبکی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے فوری خاتمے کے حامیوں کا خیال ہے کہ وینس کی وفد میں شمولیت ایک مثبت پہلو تھا اور ان کی غیر موجودگی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
عراقچی کی اسلام آباد آمد
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعے کی شام اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے آمد کے فوری بعد اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
پاکستانی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقچی کا دورہ مختصر ہوگا جس میں وہ ایران کی تجاویز پاکستان کے حوالے کریں گے تاکہ بطور ثالث پاکستان انہیں واشنگٹن تک پہنچا سکے۔ اسی دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد میں کسی براہِ راست ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کے مطابق خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گذشتہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے نظر آنے والی کچھ پیش رفت مذاکرات میں مزید بہتری کا باعث بنے گی۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مذاکرات ثمر آور ثابت ہوئے تو نائب صدر جے ڈی وینس بعد میں ان میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں ہونے والا مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔