تعبيرية عن السينما والذكاء الاصطناعي - آيستوك
مصنوعی ذہانت کے بنائے اداکار آسکر ایوارڈ کی ریس سے باہر
امریکی اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کیے گئے اداکاروں کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزدگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ فلمی صنعت میں اس ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کو محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق کسی بھی اداکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقیقی انسان ہو، نہ کہ اے آئی سے تیار کردہ کوئی کردار، تب ہی وہ دنیا کے سب سے بڑے فلمی اعزاز کے لیے اہل ہوگا۔
اسی طرح اسکرپٹ کے لیے بھی شرط رکھی گئی ہے کہ وہ کسی انسان نے لکھا ہو، نہ کہ کسی خودکار پروگرام نے۔
اکیڈمی نے واضح کیا کہ اداکاری کے شعبے میں صرف وہی کردار قبول کیے جائیں گے ،جو فلم کی باضابطہ کاسٹ لسٹ میں شامل ہوں اور جنہیں حقیقی اداکاروں نے اپنی رضامندی سے ادا کیا ہو۔
مزید کہا گیا کہ تحریری شعبوں میں بھی صرف انسانی تخلیق کردہ اسکرپٹس ہی قابل قبول ہوں گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں مرحوم اداکار ویل کلمر کی اے آئی سے تیار کردہ ایک جھلک سنیما مالکان کو دکھائی گئی، جو ان کی وفات کے ایک سال بعد منظرِ عام پر آئی تھی۔
فلم As Deep as the Graveکے ٹریلر میں کلمر کا ایک نوجوان ڈیجیٹل ورژن بھی دکھایا گیا۔یہ منصوبہ کلمر کے خاندان کی حمایت سے مکمل کیا گیا، جنہوں نے نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ اس کے ذاتی ویڈیو آرکائیو کے استعمال کی اجازت بھی دی، جس کی مدد سے اسے زندگی کے مختلف ادوار میں دوبارہ اسکرین پر پیش کیا گیا۔
تفریحی صنعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اب بھی ایک حساس معاملہ ہے2023 کی ہڑتالیں، جنہوں نے ہالی ووڈ کو مفلوج کر دیا تھا، اسی مسئلے کے گرد گھومتی تھیں، جہاں اداکاروں اور لکھاریوں نے خبردار کیا تھا کہ بغیر ضابطے کے استعمال ہونے والی یہ ٹیکنالوجی ان کے روزگار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
مثال کے طور پر ایرانی ہدایتکار جعفر پناہی کی فلم It Was Just an Accident کو رواں سال فرانس کی نمائندگی میں پیش کیا گیا تھا۔
نئے قواعد کے تحت اب کوئی بھی غیر انگریزی زبان کی فلم اس کیٹیگری میں نامزد ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ کسی بڑے بین الاقوامی فلمی میلے جیسے کانز، برلن، بوسان، وینس یا ٹورنٹو میں ایوارڈ جیت چکی ہو۔
اس زمرے میں اب فلم کو بطور امیدوار تسلیم کیا جائے گا، نہ کہ کسی ملک کو۔ اکیڈمی کے مطابق آسکر ٹرافی پر فلم کے نام کے ساتھ اس کے ہدایتکار کا نام درج کیا جائے گا اور اگر کسی ملک کی نمائندگی ہو تو اس کا نام بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔