صورة تعبيرية
پہلی جوہری آبدوز کی کارروائی میں 323 ارجنٹائنیوں کی ہلاکت
دو صدیوں سے زائد عرصے سے جزائر فاک لینڈ (Falkland Islands) کئی ممالک کے درمیان تنازع کا مرکز رہے ہیں۔
اٹھارویں صدی میں برطانیہ، فرانس اور اسپین ان جزیروں کی ملکیت کے لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار رہے۔
تاہم 1767 تک فرانس نے اپنے ان جزیروں کے دعوے سے دستبردار ہو کر انہیں اسپین کے حوالے کر دیا۔
1774 میں برطانیہ نے بھی ایک معاہدے کے تحت ان جزیروں پر اپنا باقی ماندہ کنٹرول اسپین کے سپرد کر دیا۔
بعد ازاں جب ارجنٹینا نے اسپین سے آزادی حاصل کی تو اس نے جزائر فاک لینڈ کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتے ہوئے وہاں ایک انتظامی مشن بھیجا۔
تاہم 1833 میں برطانوی افواج نے ان جزیروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا، جس کے بعد یہ جزائر برطانیہ کے زیرِ انتظام آ گئے۔
بیسویں صدی میں یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا۔ 1982 میں برطانیہ اور ارجنٹینا کے درمیان ان جزیروں پر جنگ چھڑ گئی، جس دوران برطانوی بحری جہاز ''جنرل بیلگرانو'' کے واقعے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔
جزائر فاک لینڈ کی جنگ
2 اپریل 1982 کو ارجنٹینا نے برطانوی کنٹرول سے جزائر فاک لینڈ واپس لینے کے لیے ایک فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔
اگرچہ اس دوران باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ارجنٹینا نے ہزاروں فوجی ان جزیروں کی طرف بھیج دیے اور انہیں اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیا۔
اس کے جواب میں برطانیہ نے ایک بڑی بحری ٹاسک فورس روانہ کی تاکہ ارجنٹینی افواج کو جزائر سے نکال کر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
جنگ کے دوران برطانوی افواج نے سان کارلوس کے علاقے میں پہلا اہم لینڈنگ پوائنٹ قائم کیا، جس کے بعد زمینی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔
اس دوران دونوں جانب سے شدید لڑائیاں ہوئیں اور ارجنٹینی افواج نے پہاڑی علاقوں میں دفاعی پوزیشنیں سنبھال لیں۔
ارجنٹینا کی فضائیہ نے برطانوی بحری جہازوں پر حملے بھی کیے تاکہ انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم برطانوی افواج بتدریج پیش قدمی کرتے ہوئے تقریباً 74 دنوں میں جزائر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
اس جنگ میں تقریباً 250 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ارجنٹینا کے 649 فوجی مارے گئے، جن میں بڑی تعداد اس وقت ہلاک ہوئی جب جنگی جہاز ''جنرل بیلگرانو '' تباہ ہوا۔
جنرل بیلگرانو کی خصوصیات
یہ جنگی جہاز اصل میں امریکی بحریہ کی ملکیت تھا اور ابتدا میں اس کا نام ''فینکس '' (USS Phoenix) تھا۔ اس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران بحرالکاہل کے محاذ پر بھی حصہ لیا۔
بعد ازاں ارجنٹینا نے یہ جہاز حاصل کیا اور اسے اپنے قومی ہیرو اور ریاست کے بانی مانوئل بیلگرانو کے نام پر ''جنرل بیلگرانو'' کا نام دیا۔
یہ جہاز 1951 سے 1982 تک ارجنٹینا کی بحریہ میں خدمات انجام دیتا رہا۔ڈیزائن کے مطابق اس کی لمبائی 185اعشاریہ4 میٹر تھی جبکہ اس کا وزن تقریباً 9575 ٹن تھا۔
اس میں نصب انجن اسے 32اعشاریہ5 ناٹ کی رفتار تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔اس کی اسلحہ بندی میں 150 ملی میٹر کے 15 بڑے توپ خانے شامل تھے، اس کے علاوہ 127 ملی میٹر کے 8 مزید توپ خانے بھی موجود تھے۔ جہاز کو فضائی حملوں سے بچاؤ کے لیے اینٹی ائیرکرافٹ گنز سے بھی لیس کیا گیا تھا۔
جنرل بیلگرانو کی تباہی
2 مئی 1982 کو جزائر فاک لینڈ کے جنوب میں موجود ارجنٹائنی جنگی جہاز ''جنرل بیلگرانو ''' کو برطانوی نیوکلیئر آبدوز ''کونکرر'' (HMS Conqueror) نے دو ٹارپیڈو داغ کر نشانہ بنایا۔ شدید نقصان کے باعث یہ جنگی جہاز ڈوب گیا، جس کے نتیجے میں 323 بحری اہلکار ہلاک ہوئے۔
اس واقعے کے بعد ارجنٹینا کی بحریہ نے جزائر فاک لینڈ کے قریب اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں اور آہستہ آہستہ پسپائی اختیار کی، جس سے برطانیہ کو سمندری برتری حاصل ہو گئی۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی نیوکلیئر آبدوز نے کسی جنگی جہاز کو کامیابی سے غرق کیا۔ یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سمندری جنگوں میں پیش آنے والے چند بڑے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم اس کارروائی پر بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا، کیونکہ کئی ذرائع کے مطابق ''جنرل بیلگرانو'' اس وقت ان علاقوں سے دور تھا جنہیں برطانیہ نے باقاعدہ جنگی زون قرار دیا تھا۔