ایک تصویر جس میں برطانوی افواج کو ہڑتال کے دوران سڑکوں کی حفاظت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

100 سال پہلے برطانیہ میں تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال

12 لاکھ مزدوروں نے 8 دن تک ہڑتال کی، جس کے باعث برطانیہ کے کئی اہم شعبے مفلوج ہو گئے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

1914 سے 1918 کے درمیان دنیا نے پہلی عالمی جنگ کے ہولناک مناظر دیکھے، جس نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی اور 2 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا سبب بنی۔

یہ جنگ اس وقت ختم ہوئی، جب وسطی سلطنتوں نے ایک کے بعد ایک ہتھیار ڈال دیے اور جرمنی نے جنگ بندی اور اتحادیوں کی شرائط کو قبول کر لیا، جو بعد میں معاہدۂ ورسائی کا حصہ بنیں۔

جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ بتدریج اپنے معمول کے معاشی نظام کی طرف لوٹنے لگا اور جنگی معیشت کو ختم کیا گیا۔

تاہم یہ تبدیلی برطانوی عوام کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی، کیونکہ اس کے نتیجے میں شدید معاشی اور سماجی بحران پیدا ہوا، جو 1926 کی بڑی ہڑتال کی صورت میں واضح طور پر سامنے آیا۔

جنگ کے بعد کی صورتحال

پہلی عالمی جنگ کے اختتام کے بعد برطانیہ ایک پرانے اور کمزور ہوتے ہوئے معاشی نظام کا شکار ہو گیا، جس کا انحصار بڑی حد تک ٹیکسٹائل اور کان کنی کی صنعتوں پر تھا۔

دوسری طرف برطانوی معیشت کو اب ابھرتی ہوئی نئی معیشتوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے نمایاں امریکہ کی معیشت تھی۔

اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلی آئی، کیونکہ دنیا بھر میں کوئلے کی مانگ کم ہونے لگی، جو کئی دہائیوں تک توانائی کا بنیادی ذریعہ رہا تھا۔

تاہم کوئلے کی کان کنی کی لاگت اب بھی زیادہ تھی اور کانوں میں پیداواری طریقے بھی کافی پیچھے رہ گئے تھے۔

بیسویں صدی کے آغاز پر برطانوی حکومت نے جنگ سے پہلے کی طرح پاؤنڈ اسٹرلنگ کو اس کی اصل قدر پر واپس لانے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں برطانوی برآمدات مہنگی ہو گئیں، جس سے ملکی صنعتوں کو نقصان پہنچا۔ کئی برطانوی کمپنیاں اپنی منڈیاں امریکی اور یورپی کمپنیوں کے ہاتھوں کھو بیٹھیں، جس سے معاشی بحران مزید گہرا ہو گیا۔

اجرت میں کمی کا فیصلہ واپس لینا

معاشی حالات کی خرابی کے پیش نظر برطانوی حکومت نے اجرتیں کم کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ مالی توازن برقرار رکھا جا سکے۔

تاہم اس فیصلے پر مزدوروں میں شدید غصہ پیدا ہوا اور ٹریڈ یونینز نے عام ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ممکنہ بڑے احتجاج کے خوف سے حکومت نے 31 جولائی 1925 کو اجرتیں کم کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا، جس دن کو ''سرخ جمعہ ''(Red Friday) کے نام سے جانا جاتا ہے۔


اس کے بجائے حکومت نے ایک مالی امدادی پیکیج منظور کیا تاکہ اجرتوں کی موجودہ سطح کو برقرار رکھا جا سکے۔اسی دوران برطانوی حکومت نے ''سیموئل کمیشن ''(Samuel Commission) قائم کیا تاکہ معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور اس حوالے سے سفارشات پیش کی جا سکیں۔

12 لاکھ مزدور ہڑتال پر

سیموئل کمیشن کی رپورٹ میں کانوں کی دوبارہ تنظیم اور کوئلے کے کان کنوں کی اجرتوں میں تقریباً 13عشاریہ5 فیصد کمی کی سفارش کی گئی تاکہ اس شعبے کو مستحکم کیا جا سکے۔

جب کان کنوں کی اجرتیں کم کرنے کا رجحان سامنے آیا تو برطانیہ کی ٹریڈ یونینز نے حکومت کو اس فیصلے سے روکنے کے لیے ملک گیر عام ہڑتال کی اپیل کر دی۔

4 مئی 1926 کو برطانیہ نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال کا سامنا کیا، جس میں تقریباً 12 لاکھ مزدوروں نے کام چھوڑ دیا اور احتجاج کو ترجیح دی۔

اس ہڑتال میں بنیادی طور پر کان کنی، ٹرانسپورٹ اور بندرگاہوں کے مزدور شامل تھے۔حکومت نے اس ہڑتال کو مسترد کرتے ہوئے اسے ریاستی نظم و نسق کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا۔

بعض حکومتی مؤقف رکھنے والے اخبارات نے اسے بغاوت تک قرار دیا، جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ہڑتال میں کمیونسٹ عناصر موجود ہو سکتے ہیں ،جو مزدوروں کو اکسا رہے ہیں۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے رضاکاروں کی مدد سے اہم شعبوں کو چلانے کا انتظام کیا۔

یہ ہڑتال تقریباً 8 دن جاری رہی۔ 12 مئی تک زیادہ تر مزدور واپس کام پر لوٹ آئے، جبکہ کان کنوں نے مزید کئی ہفتوں تک اکیلے ہڑتال جاری رکھی۔

آخرکار یہ تحریک ناکام ہو گئی کیونکہ حکومت نے کوئی بڑی رعایت دینے سے انکار کر دیا۔ 1927 میں ہڑتالوں کے خلاف ایک نیا قانون بھی منظور کیا گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں