4 مئی کو آبنائے ہرمز میں بحری جہاز اور کشتیاں (رائٹرز)

آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران پر پابندیاں برقرار رہیں گی: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی مثبت اشاروں کے باوجود جو ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو (Jean-Noël Barrot)نے کہا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز بند رہے گی، تہران پر عائد کسی بھی بین الاقوامی پابندی کو ختم کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے فرانسیسی ریڈیو'' آر ٹی ایل'' کو انٹرویو میں کہا کہ ایران یا کم از کم اس کا نظام اپنے جوہری پروگرام پر نرمی کے بدلے میں امریکہ سے پابندیوں میں کمی کا مطالبہ کر رہا ہے، تاہم جب تک آبنائے ہرمز بند ہے کسی بھی قسم کی پابندیاں ختم کرنا ممکن نہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور قریبی مشرق میں پائیدار سیاسی حل اس وقت تک ممکن نہیں ،جب تک ایران کا نظام بنیادی اور حقیقی نوعیت کی تبدیلی قبول نہ کرے، جس سے ایران اپنے خطے میں پرامن طریقے سے رہ سکے۔

عملدرآمد کی شرط

اسی دوران امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں زیادہ تر پابندیوں کا خاتمہ صرف معاہدے پر دستخط سے مشروط نہیں ہوگا، بلکہ اس کے عملی نفاذ سے جڑا ہوگا۔

ان کے مطابق ایرانی فریق کو مرحلہ وار آبنائے ہرمز کھولنی ہوگی، جبکہ اس کے بدلے میں واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری پابندیوں میں نرمی کرے گا۔

یہ بات امریکی میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ،جب فرانس نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔

اسی دوران تقریباً 1600 جہاز آبنائے ہرمز کے قریب رکے ہوئے ہیں، کیونکہ امریکہ نے ''فریڈم کوریڈور'' منصوبہ روک دیا ہے، جو اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس راستے سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دوران ایران کے ساتھ جلد معاہدے کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کے ذریعے دے گا، تاہم اس کے لیے کوئی وقت نہیں بتایا گیا۔

ایک صفحے کی یادداشت

پاکستانی ذرائع اور ایک ایسے ذریعے کے مطابق جو ثالثی کی کوششوں سے باخبر ہے، دونوں فریقین ایک ایسے ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں ،جو ایک صفحے پر مشتمل یادداشت کی شکل میں ہوگا اور باضابطہ طور پر تنازع کے خاتمے کا اعلان کرے گا۔

یہ بات خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے رپورٹ کی ہے۔ذرائع کے مطابق اس یادداشت پر اتفاق ہونے کی صورت میں مزید مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی، جن میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کی بحالی، ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی اور ایرانی جوہری پروگرام پر کچھ حدود و قیود طے کرنا شامل ہوگا۔

ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے جو مذاکرات میں شریک ہیں، کہا کہ فریقین معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں، تاہم اب بھی بعض اختلافات برقرار ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video


ان کے مطابق ترجیح یہ ہے کہ ایران جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کرے، جبکہ باقی معاملات بعد میں براہ راست مذاکرات کے ذریعے طے کیے جا سکتے ہیں۔

اگر امریکا اور ایران ابتدائی معاہدے پر متفق ہو جاتے ہیں ،تو اس کے بعد 30 دن تک تفصیلی مذاکرات ہوں گے، جن کا مقصد ایک جامع معاہدہ تیار کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکا نے پہلے بھی ایران سے چند بنیادی مطالبات کیے تھے ،جن میں افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخیرے کی حوالگی شامل تھی، جس کی مقدار 400 کلوگرام سے زیادہ بتائی جاتی ہے اور جو جوہری ہتھیار بنانے کے قریب درجے تک افزودہ ہے۔

اس کے علاوہ کئی برسوں تک یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنے، میزائل پروگرام پر پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا، تاہم ایران نے ان شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں