A man plays a video game controlled by the remote that comes with the new Apple TV at an Apple Store in Los Angeles, California, October 30, 2015. REUTERS/Jonathan Alcorn
ویڈیو گیمز کی عادات کے دماغی صحت پر دلچسپ اثرات… سائنس نے حقیقت واضح کر دی
ویڈیو گیمز کے فوائد اور نقصانات پر کافی بحث جاری رہتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذہنی کارکردگی میں کمی یا بہتری کا تعلق خود گیم کھیلنے سے نہیں بلکہ اس کے استعمال کے انداز سے ہوتا ہے۔
جن افراد میں گیمز کی لت کا خطرہ پایا جاتا ہے، ان میں یادداشت کی کمزوری دیکھی گئی، جبکہ تفریحی انداز میں کھیلنے والے افراد میں توجہ اور فوکس بہتر پایا گیا۔ یہ نتائج جرنل Computers in Human Behavior اور PsyPost کی رپورٹ میں شائع ہوئے۔
گیمنگ ڈس آرڈر کی حالت
عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے گیمنگ ڈس آرڈر کو ایک طبی حالت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس میں فرد اپنی گیمنگ عادتوں پر کنٹرول کھو دیتا ہے اور روزمرہ زندگی کے مقابلے میں گیمز کو ترجیح دینے لگتا ہے، چاہے اس کے منفی اثرات ہی کیوں نہ ہوں۔
ماہرین نفسیات ایسے رویوں کو ''ڈوئل سسٹم فریم ورک'' کے ذریعے سمجھتے ہیں، جس کے مطابق انسانی رویہ دو نظاموں پر مشتمل ہوتا ہے:
ایک ہدف پر مبنی نظام اور دوسرا عادت پر مبنی نظام۔ہدف پر مبنی نظام میں سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی اور ذہنی لچک شامل ہوتی ہے، جبکہ عادت پر مبنی نظام خودکار ردعمل پر کام کرتا ہے، جو بعض اوقات انسان کے مقاصد کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔
ایگزیکٹو فنکشنز وہ ذہنی صلاحیتیں ہیں، جو ہدف پر مبنی نظام کو سہارا دیتی ہیں، جیسے معلومات کو یاد رکھنا، کاموں کو تبدیل کرنا اور فوری ردعمل کو روکنا۔
دوسری طرف ''امیپلس سیکھنا'' ایک خودکار عمل ہے، جس میں دماغ بغیر شعوری کوشش کے ماحول سے پیٹرن سیکھ لیتا ہے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ کرسٹینا بیرٹا اور ان کی ٹیم نے یونیورسٹی آف ایوٹووس لورینڈ (ہنگری) میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف قسم کے گیمرز میں یہ ذہنی نظام کیسے کام کرتے ہیں، تاکہ تفریحی گیمنگ اور نشے کی کیفیت کے درمیان فرق کو سمجھا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے ایک تجربہ ترتیب دیا گیا، جس میں ذہنی صلاحیتوں اور عادت پر مبنی سیکھنے دونوں کا جائزہ لیا گیا۔
ورکنگ میموری کی خرابی
مطالعے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد میں گیمنگ ڈس آرڈر کا خطرہ موجود تھا، انہوں نے غیر گیمرز اور تفریحی انداز میں کھیلنے والوں کے مقابلے میں ورکنگ میموری کے بنیادی ٹیسٹوں میں کمزور کارکردگی دکھائی۔
انہیں اعداد و اشکال کی ترتیب کو یاد رکھنے اور دوبارہ یاد کرنے میں دشواری پیش آئی۔اگرچہ خطرے والے گروہ نے مجموعی طور پر میموری اپڈیٹ کرنے والے ٹاسک میں معمول کے قریب کارکردگی دکھائی، لیکن ان کی غلطیوں سے اندازہ ہوا کہ ان میں جلد بازی اور رویے پر کم کنٹرول کا رجحان زیادہ تھا۔
اس کے برعکس تفریحی انداز میں گیم کھیلنے والے افراد میں ذہنی چستی اور بہتر توجہ کی علامات دیکھی گئیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ صحت مند گیمنگ عادات دماغی فوکس اور ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
شعوری کنٹرول اور خودکار عادا ت
تحقیق نے شعوری کنٹرول اور خودکار عادات کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ روک تھام پر مبنی کنٹرول اور عادتوں کی بنیاد پر سیکھنے کے درمیان الٹا تعلق پایا جاتا ہے۔ یعنی جب دماغ کم شعوری محنت کرتا ہے تو خودکار عادات زیادہ مضبوطی سے رویے پر اثر انداز ہونے لگتی ہیں، جیسا کہ توقع کی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک غیر متوقع بات یہ سامنے آئی کہ غیر گیمرز اور نشے کے خطرے سے دوچار افراد میں بنیادی ورکنگ میموری اور عادتوں پر مبنی سیکھنے کے درمیان مثبت تعلق موجود تھا۔
محققین کے مطابق ممکن ہے کہ یہ افراد اپنی ورکنگ میموری کی صلاحیت کو دوسرے ذہنی خلا کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہوں ،جب وہ خودکار کام انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ تفریحی انداز میں کھیلنے والے افراد میں یہ مشترکہ تعلق نظر نہیں آیا۔
شناخت اور کنٹرول کا نقصان
مجموعی طور پر تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ ویڈیو گیمز کا معمول کے مطابق استعمال خود ذہنی اعلیٰ صلاحیتوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ ذہنی مسائل زیادہ تر ان افراد میں سامنے آتے ہیں ،جو اپنی گیمنگ عادتوں پر کنٹرول کھو دیتے ہیں۔
ان ذہنی نمونوں کو سمجھ کر ماہرین نفسیات ایسے مؤثر طریقے تیار کر سکتے ہیں جو رویے کی لت (behavioral addiction) کے شکار افراد کے لیے زیادہ بہتر علاج فراہم کریں۔