تہران سے

امریکا سے مذاکرات کیلئے ایران کی سات شرائط سامنے آ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیے جانے کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کی داخلی امور کمیٹی کے سربراہ محمد صالح جوکار نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے طے کی گئی شرائط امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ''سرخ لکیر'' کی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے ایرانی خبر ایجنسی ''مہر ''کے مطابق کہا کہ تہران کو نہ واشنگٹن پر اعتماد ہے اور نہ ہی امریکی صدر پر۔

جوکار نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا فوجی دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے ایران میں نظام کی تبدیلی، ملک کی تقسیم اور اس کے وسائل پر کنٹرول چاہتا تھا، تاہم ان کے بقول یہ تمام کوششیں ناکام رہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video



سات شرائط

محمد صالح جوکار نے بتایا کہ تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا، جو پاکستان میں ہونا تھا۔

ان کے مطابق واشنگٹن نے حالیہ عرصے میں ایسی تجاویز پیش کیں جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ جہاز رانی کیلئے کھولنے کے بدلے ایران پر عائد بحری پابندی نرم کرنے کی بات شامل تھی، تاہم ایران نے خامنہ ای کی پیش کردہ ''بنیادی شرائط'' پر سختی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔

جوکار کے مطابق ان شرائط میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کو ایرانی مسلح افواج کے ساتھ رابطے اور نگرانی کے تحت منظم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری شرط تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور ''محورِ مزاحمت'' کے تمام فریقوں کے خلاف کارروائیاں روکنا ہے۔

شرائط میں خطے میں موجود تمام امریکی جنگی افواج کا اپنی فوجی اڈوں سے انخلا بھی شامل ہے، جبکہ ایران کیلئے مکمل ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video


اس کے علاوہ تہران نے ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے و رقوم جاری کرنے کا مطالبہ بھی رکھا ہے۔

ایران نے یورینیم افزودگی کے اپنے حق کو تسلیم کرنے کو بھی مذاکرات کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

جوکار نے زور دے کر کہا کہ ایران اب بھی امریکا کو ''ناقابلِ اعتماد دشمن'' سمجھتا ہے اور تہران اپنی عسکری اور معاشی صلاحیتیں آزادانہ طور پر مزید مضبوط بناتا رہے گا۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تہران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ''سنگین نتائج ''سامنے آ سکتے ہیں۔

ادھر پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مؤقف قریب لانے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video



اس سے قبل ٹرمپ ایرانی ردعمل کو ''انتہائی مایوس کن '' قرار دے چکے ہیں اور واضح کیا تھا کہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری پابندیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو دھمکیاں دینا جاری رکھا ہوا ہے، جس کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ میں آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

یہ صورتحال امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد مزید سنگین ہو گئی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں