امریکہ و ایران

ایران کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کا اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پر چھائے تعطل کے درمیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے واپسی کے بعد ملکی قومی سلامتی کی ٹیم کے اعلیٰ ارکان کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ بات اجلاس سے با خبر ایک ذریعے نے بتائی ہے۔

ذریعے نے وضاحت کی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جون ریٹکلف اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس اجلاس میں شرکت کی جو ہفتے کے روز ریاست ورجینیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نجی گولف کلب میں منعقد ہوا۔ یہ بات "سی این این" نیٹ ورک نے رپورٹ کی ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے بیجنگ کے دورے کے دوران تہران کے ساتھ نمٹنے کے طریقے کے بارے میں فیصلہ مؤخر کر دیا تھا، کیونکہ امریکی انتظامیہ کے متعدد عہدے داروں نے بتایا کہ وہ اگلا لائحہ عمل طے کرنے سے پہلے امریکی صدر اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج جاننا چاہتے تھے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

گذشتہ دنوں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے تاکہ اسے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر مجبور کیا جا سکے، اگرچہ وہ سفارتی حل تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

سکیورٹی ٹیم کا یہ اجلاس ان شدید لہجے کی دھمکیوں سے پہلے ہوا جو امریکی صدر نے گذشتہ روز اتوار کی شام تہران کے خلاف دی تھیں۔

واضح رہے کہ سفارتی مذاکرات کے حوالے سے تہران کے رویے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات پر ان کا غصہ بڑھ رہا ہے۔

روبیو اور وبنس (آرکائیو - اے ایف پی)

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم کے ایک ترجمان اور ایک امریکی عہدے دار نے سی این این کو بتایا کہ امریکی صدر نے گذشتہ روز بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی تھی۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے تصدیق کی کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکہ سے اسرائیل کے لیے ہتھیاروں اور گولہ بارود کا ایک اضافی ہوائی پل فعال رہا ہے۔

عہدے دار نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ کی طرف سے ہری جھنڈی ملتے ہی، یہ توقع ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایران پر مشترکہ حملہ کریں گے۔ یہ بات "اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن" نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

دوسری طرف ایرانی فریق اب بھی اپنی شرائط اور ان خطوط پر قائم ہے جنہیں وہ "سرخ لکیریں" کہتا ہے۔ ان میں اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ واشنگٹن منتقل نہ کرنا اور تہران کو جنگ کے نقصانات کا معاوضہ دینا شامل ہے۔ اس کے علاوہ یورینیم کی افزودگی کے حق پر قائم رہنا، اگرچہ اسے محدود سالوں کے لیے معطل کرنے کا معاملہ قابلِ مذاکرات ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ یہ توقع ہے کہ ٹرمپ اس ہفتے اپنی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ ایک اور اجلاس کریں گے، جبکہ پینٹاگان نے فوجی منصوبوں اور اہداف کی ایک فہرست تیار کر لی ہے۔ اس میں ایران کے اندر توانائی کے مقامات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات حالیہ پیش رفت سے واقف ذرائع نے بتائی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں