ایران میں بچوں کو ہتھیار استعمال کی تربیت دی جا رہی ہے [ایسوسی ایٹڈ پریس]

ایران جنگ

پاسداران انقلاب کی تہران میں مسلح پریڈ... بچوں اور خواتین کو ہتھیاروں کی تربیت 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں سے پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں... خواہ وہ اس کے چوکوں اور سڑکوں پر نصب جنگی نوعیت کے "اشتہاری بورڈز" کے ذریعے ہوں یا پاسداران انقلاب کی "تربیتی فوجی" پریڈز کے ذریعے۔

ایران میں نیم سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والی اور زیر گردش متعدد تصاویر اور وڈیوز کے مطابق، پاسداران انقلاب کے اہل کار اب خواتین اور بچوں کو مشین گنیں جوڑنے اور کھولنے کی تربیت دے رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" کے مطابق وہ باقاعدگی سے شہریوں کو یہ دکھا رہے ہیں کہ کلاشنکوف رائفلوں کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

گذشتہ منگل کی شام دارالحکومت میں منعقدہ ایک پریڈ کے دوران، شریک مردوں اور خواتین کو الگ الگ صفوں میں تقسیم کیا گیا۔ پاسداران انقلاب سے وابستہ باسیج فورس کے ایک اہل کار، ہادی خوشہ نے فولڈنگ میگزین والی کلاشنکوف رائفل کے استعمال کا طریقہ کار دکھایا۔ انہوں نے کہا "تربیت کے اختتام پر کورس مکمل کرنے والوں کو 'جان فدا' کے عنوان سے ایک کارڈ دیا جائے گا، جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ انہوں نے ابتدائی تربیت حاصل کر لی ہے اور وہ اس قسم کا ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں، اگر خدا نہ کرے ہمارے ملک پر کوئی افتاد آن پڑے۔"

تاہم وہاں موجود لڑکوں اور بزرگوں میں تربیت کا معیار انتہائی ابتدائی نوعیت کا تھا۔

ایرانی دارالحکومت میں سوویت دور کی پرانی بیلٹ سے چلنے والی مشین گنوں سے لیس گاڑیوں کے فوجی مارچ بھی دیکھنے میں آئے، جن کا مقصد "بیرونی ملک کے لیے انتباہی" پیغامات دینا ہے۔

تہران میں کھلے عام اسلحہ کی نمائش [ ایسوسی ایٹڈ پریس]

ان بیرونی پیغامات کے پس پردہ ان پریڈز کا مقصد لوگوں کے لیے اطمینان اور حوصلہ افزائی کے پیغامات فراہم کرنا بھی ہے اور غیر یقینی صورت حال کے اس دور میں تفریح کا ایک نادر ذریعہ پیش کرنا ہے۔ اس لیے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد سے ایرانیوں کو بڑے پیمانے پر ملازمتوں سے برطرفی، کاروباری اداروں کی بندش اور خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں شدید اضافے کا سامنا ہے۔

کئی مہینوں سے، سرکاری چینلز اور حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ٹیکسٹ میسجز عوام کو "جان فدا" یا "اپنی جانیں قربان کرنے والوں" میں شامل ہونے کی دعوتیں نشر کر رہے ہیں۔

پاسداران انقلاب اور کچھ ایرانی حکام نے ان خاندانوں کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے جن کے ہاں 12 سال تک کے لڑکے ہیں کہ وہ انہیں سکیورٹی چیک پوسٹوں پر کام کرنے کے لیے پاسداران انقلاب کے پاس بھیجیں، جس کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مذمت کی ہے اور اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔

ایران میں خواتین کو اسلحہ چلانے کی تربیت دی جا رہی ہے [ایسوسی ایٹڈ پریس]

اسی طرح عوام کے جذبے کو ابھارنے کے لیے کئی عوامی اعلانات جاری کیے گئے اور سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات کے دوران مسلح میزبان نمودار ہوئے۔

دوسری جانب نوبل امن انعام یافتہ ایرانی خاتون شیریں عبادی نے ہتھیاروں کی علانیہ نمائش، بالخصوص ان مناظر پر سخت تنقید کی ہے جن میں چھوٹے بچوں کو اسالٹ رائفلیں سنبھالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا "یہ مناظر نائجیریا میں بوکو حرام اور کانگو وغیرہ میں عسکریت پسندوں جیسے گروہوں کی جانب سے بچوں کو بھرتی کرنے اور انہیں مسلح کرنے کی کارروائیوں کی یاد دلاتے ہیں۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں