نائب صدر جے ڈی وینس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عقب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران: اے ایف پی

ایران جنگ

جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی جانب اہم پیش رفت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کی جانب اچھی پیش رفت کی ہے۔

جے ڈی وینس کے مطابق "صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی اس کی منظوری دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے امریکہ اور ایران کو اب بھی کئی اہم نکات طے کرنا ہوں گے۔"

فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق امریکی ذرائع کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پانے کی خبر کے چند گھنٹے بعد وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات کار معاہدے میں استعمال کی جانے والی ’زبان پر بات کر رہے ہیں‘ جس میں ’افزودگی کا سوال‘ بھی شامل ہے۔ 'ہم نے اس میں کافی پیش رفت کی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ تہران کے ایٹمی پروگرام کو نمایاں حد تک پیچھے دھکیل سکتا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

امریکہ طویل عرصے سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی روکے اور اپنے پاس پہلے سے موجود ذخیرے کو ختم کرے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران وینس کا لہجہ پرامید تھا، انھوں نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے ایرانی ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے معاملے پر ’ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا‘ لیکن فریقین ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کرے گا اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بات چیت کا آغاز کرے گا۔

تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ معاہدے کو نہ تو حتمی شکل دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں