امریکہ اور ایران - iStock سے ایک مثالی تصویر

ایران،امریکہ مذاکرات: چار مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی تفصیلات اور اہم نکات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایرانی حکام کے ساتھ جاری مذاکرات رواں ہفتے کے اختتام تک کسی معاہدے پر منتج ہو سکتے ہیں، اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فی الحال مذاکرات کے تعطل کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران باخبر ذرائع نے اس عبوری معاہدے کی تفصیلات سامنے لائی ہیں، جو دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا مرکزی محور رہا ہے۔

ذرائع نے جمعرات کے روز العربیہ/الحدث کو بتایا کہ مجوزہ عبوری معاہدے پر عمل درآمد کا طریقۂ کار چار مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا آغاز کشیدگی میں کمی سے ہوگا اور اختتام جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر ہوگا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ذرائع کے مطابق اس معاہدے کی مجوزہ یادداشت ابھی تک مکمل یا باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی، تاہم مذاکراتی حلقوں سے وابستہ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پر عمل درآمد چار مسلسل مراحل میں کیا جائے گا۔

ہر مرحلے سے اگلے مرحلے میں پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اپنی طے شدہ ذمہ داریوں اور وعدوں پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔ اس طرح معاہدے کے ہر مرحلے کی کامیابی اگلے مرحلے کے آغاز کے لیے بنیادی شرط ہوگی۔

پہلا مرحلہ: جنگ بندی کو مستحکم بنانا

ذرائع کے مطابق عبوری معاہدے کے پہلے مرحلے میں موجودہ جنگ بندی کو مستحکم کرنا، براہِ راست فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی یا نئے محاذ کے کھلنے کو روکنا شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مجوزہ مفاہمت میں لبنان کی صورتحال کو بھی شامل رکھا جائے اور مستقبل کے کسی بھی انتظام میں اسے نظرانداز نہ کیا جائے۔

دوسرا مرحلہ: آبنائے ہرمز اور عالمی جہاز رانی کا تحفظ

معاہدے کا دوسرا مرحلہ بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پر مرکوز ہے۔ اس کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے، جہازوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور بحری راستوں و توانائی کی ترسیل کی لائنوں کے لیے خصوصی سکیورٹی انتظامات کرنے کی تجویز شامل ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ذرائع کے مطابق تمام متعلقہ فریق اس معاملے کی حساسیت اور عالمی معیشت پر اس کے براہِ راست اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں، اسی لیے اسے مذاکرات کے اہم ترین نکات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

تیسرا مرحلہ: محدود پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی اعتماد سازی

معاہدے کے تیسرے مرحلے میں دونوں فریق اقتصادی اعتماد سازی کے اقدامات کی جانب بڑھیں گے۔ اس مرحلے میں بعض پابندیوں میں محدود اور محتاط نرمی، ایران کے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کی رہائی اور تیل کی برآمدات و تجارتی تبادلے سے متعلق کچھ سہولتیں فراہم کرنا شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی فریق اس مرحلے کو انتہائی اہم سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک یہ کسی بھی معاہدے کی سنجیدگی ثابت کرنے اور ایرانی معیشت کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہوگا۔

چوتھا اور سب سے پیچیدہ مرحلہ

معاہدے کا چوتھا اور سب سے پیچیدہ مرحلہ بڑے تزویراتی معاملات پر مشتمل ہوگا، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی (تخصیب) کی سطح، نگرانی کے طریقہ کار، بین الاقوامی ضمانتیں اور خطے کے لیے طویل المدتی سکیورٹی انتظامات شامل ہیں۔

ذرائع اور تجزیوں کے مطابق یہ مرحلہ سب سے زیادہ دشوار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے متعلق مسائل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور ان پر دونوں فریقوں کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات بھی نمایاں ہیں۔

اسی وجہ سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس مرحلے پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے اور تفصیلی شرائط طے کرنے میں کئی ماہ کی مذاکراتی کوششیں درکار ہو سکتی ہیں۔

اعلی سطح پر افزودہ یورینیم

یہ معلومات اس وقت سامنے آئیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس ہفتے کے آخر تک کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے ناکامی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تہران نے ابھی تک امن معاہدے پر اتفاق نہیں کیا۔ادھر ایرانی فریق نے زور دیا ہے کہ مذاکرات میں اب تک کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا کے ساتھ رابطے کے دروازے کھلے ہیں، لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

دوسری طرف امریکی ایوانِ نمائندگان نے گزشتہ روز ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایران کے خلاف جاری جنگ سے امریکی افواج کو واپس بلانے کا حکم دیا گیا ہے، جسے صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تنازع 28 فروری سے جاری ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں