الرئيس الأميركي دونالد ترامب (أرشيفية - رويترز)

ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتائج "اس ہفتے کے اختتام تک" سامنے آ سکتے ہیں : ٹرمپ

امریکی صدر نے تصدیق کی ہے کہ یہ مذاکرات "بہت اچھے انداز میں" جاری ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتائج اس ہفتے کے اختتام تک سامنے آ سکتے ہیں تاہم ان کا ناکام ہونا خارج از امکان نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو بہت اچھا قرار دیا اور ایرانی حکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی صورتحال غیر مستحکم ہے اور کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن ترجیح ایک تحریری معاہدہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایرانی حکام نے کئی بار اپنی رائے تبدیل کی ہے، لیکن توقع ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں کسی وقت معاہدہ ہو جائے گا۔

ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ کبھی بھی ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تہران نے تنازع کے خاتمے کے بعد امریکی حکام کو ایران میں دفن شدہ جوہری مواد کی تلاش کے لیے داخل ہونے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ مشکل ہے لیکن وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں اور اس کام کے لیے درکار سازوسامان صرف امریکہ اور چین کے پاس ہے۔

جوہری مقامات کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فوردو، نطنز اور اصفہان کے مقامات محفوظ ہیں اور امریکی اسپیس فورس کیمروں کے ذریعے ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوششیں تنازع ختم ہونے کے بعد ہی کی جائیں گی کیونکہ وہ اپنی افواج کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دنیا کے لیے ایک حقیقی مسئلہ قرار دیا اور خطے میں حالیہ جھڑپوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی کا مطلب فائرنگ کا کم شدید تبادلہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ لبنان سے متعلق مذاکرات کو ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے الگ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ تہران دونوں معاملات کو آپس میں جوڑنے پر بضد ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور لبنان میں جاری لڑائی کے معاملات کو الگ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بنیامین نیتن یاہو کی تعریف بھی کی۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کا معاملہ پاکتانی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کا مرکزی نقطہ ہے، تاہم تہران نے ابھی تک امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔ انہوں نے ہاؤس کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ ایران میں جنگ ختم ہو چکی ہے کیونکہ امریکہ نے اپنی فوجی کارروائیوں کے ذریعے کامیابی حاصل کر لی ہے، جس میں ایران کی دفاعی صنعتی بنیادوں، میزائل لانچرز، ڈرونز، فضائیہ اور بحریہ کو تباہ کرنا شامل ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں