صورة لمجتبى خامنئي في طهران - 6 مايو 2026 فرانس برس

 امریکا ایرانی عوام میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے:خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کو باہمی تقسیم اور اختلافات سے خبردار کرتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video



انہوں نے جمعرات کے روز اپنے ایک پیغام میں کہا کہ تہران کے دشمن میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد اب ایرانی عوام کے عزم کو کمزور کرنے اور ملک میں انتشار و فتنہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خامنہ ای نے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی ایسا عمل جو عوام میں مایوسی، بدگمانی یا ناامیدی پیدا کرے، دشمن کی مدد کے مترادف ہوگا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان کا اشارہ امریکا اور اسرائیل کی جانب تھا۔یہ پیغام ایران کے بانی رہنما روح اللہ خمینی کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں خامنہ ای کی جانب سے پڑھ کر سنایا گیا۔

رابطے کے ذرائع اب بھی کھلے ہیں

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ رابطے کے ذرائع اب بھی کھلے ہیں، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

صورة للمرشد الإيراني مجتبى خامنئي في طهران (أرشيفية- فرانس برس)



عراقچی کے مطابق بیروت پر حملوں کے خاتمے کی ضرورت کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کی میز پر واپسی اس بات سے مشروط ہے کہ ایرانی عوام کے حقوق کی ضمانت دی جائے، لبنان میں جنگ کا خاتمہ ہو اور خطے میں کشیدگی کم کی جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات رواں ہفتے کے اختتام تک کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے ناکامی کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اعلیٰ سطح پر افزودہ ایرانی یورینیم کے ذخائر کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کا بنیادی موضوع ہے۔

ان کے مطابق تہران نے تاحال کسی امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔یاد رہے کہ گزشتہ جمعے کو صدر ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ بحث تازہ ترین معاہدے کے مسودے میں مزید سخت شرائط شامل کرنے کی کوشش کی تھی، جبکہ گزشتہ چند دنوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان محدود نوعیت کی فوجی کارروائیوں اور حملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں