آذربائیجانی سرحد سے (آرکائیو فوٹو - فرانس پریس)

اسرائیل نے خفیہ طور پر آذربائیجان میں اپنے یونٹس تعینات کیے : با خبر ذرائع کا دعویٰ 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چار با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان میں خفیہ طور پر ایلیٹ فوجی اور انٹیلی جنس یونٹس تعینات کیے تھے۔ یہ اقدام تہران کے خلاف آپریشنز کو آسان بنانے کے لیے کئی ممالک میں قائم خفیہ مقامات کے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایران کی شمالی سرحد کے قریب، جنوبی آذربائیجان میں کئی مقامات سے کام کیا۔ یہ مقامات ایران کے تبریز شہر سے تقریباً 60 میل کے فاصلے پر تھے، جسے اسرائیل نے جنگ کے دوران نشانہ بنایا تھا۔

ان مقامات پر خصوصی کمانڈو یونٹس بھی تعینات کیے گئے، جنہوں نے معلومات جمع کرنے اور ڈرون چلانے کے مشن انجام دیے۔ اس سے اسرائیل کو جنگ کے دوران شمالی ایران میں ہونے والی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک اہم مقام ملا۔ ذرائع کے مطابق یہ مقامات عراق اور صومالی لینڈ سمیت کئی ممالک میں پھیلے خفیہ عسکری مراکز کا حصہ تھے۔

تبریز شہر کے جنوب سے (آرکائیو فوٹو - فرانس پریس)

آذربائیجان میں تعینات ان فورسز میں درجنوں فوجی شامل تھے، جن میں خصوصی دستے، فضائی دستے اور موساد کے ارکان موجود تھے۔ ان آپریشنز کی تیاری جنگ کے آغاز سے ہفتوں قبل شروع ہوئی تھی۔ جنوری کے وسط میں اسرائیل نے آذربائیجان-ایران سرحد پر ایک خفیہ مشن شروع کیا جس میں جاسوسی کے آلات نصب کرنا شامل تھا۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آذربائیجان سے شروع کیے گئے آپریشنز میں 4 مارچ کو ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ کے عہدیدار رحمان مقدم کا قتل شامل تھا، جن پر اسرائیل نے 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا تھا۔ اگلے ہی روز ڈرون نے آذربائیجان کے علاقے ناخچیوان میں ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس پر صدر الہام علیوف نے ایران پر الزام لگایا، تاہم تہران نے اسے مسترد کر دیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دوسری جانب امریکہ میں آذربائیجان کے سفارت خانے نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیسرے ممالک کے خلاف اپنے علاقے کے استعمال کے بے بنیاد دعوؤں کو قطعی طور پر رد کرتے ہیں۔

ایرانی اور آذربائیجانی صدور (آرکائیو فوٹو - فرانس پریس)

علاوہ ازیں ایک ذریعے نے بتایا کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کو ایک اضافی فوجی مقام فراہم کیا، جسے ایران کے لیے طویل فاصلے کی پروازوں میں ہوائی جہازوں کے لیے ممکنہ اسٹاپ اوور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور آذربائیجان کے درمیان تجارتی اور عسکری تعلقات بہت گہرے ہیں۔ باکو اسرائیل کو اس کی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، جبکہ اسرائیل اسے جدید ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ آذربائیجان 2016 میں اسرائیلی "آئرن ڈوم" سسٹم خریدنے والا پہلا غیر ملکی ملک بھی تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں