وزارة الصحة السعودية

غیر ثابت شدہ غذائی نظام پر عمل سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا: سعودی وزارت صحت

ڈاکٹر سے رجوع کیے بغیر انسولین بند کرنے کے بعد متاثر ہونے والے صحت کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت صحت نے کسی بھی ایسے غذائی نظام پر عمل کرنے یا اسے ماہر کی نگرانی کے بغیر تجویز کردہ طبی علاج کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے جو سائنسی طور پر ثابت شدہ نہ ہو۔ ان متبادل نظاموں میں ’’ نظامِ طیبات‘‘ کے نام سے ایک ڈائٹ پلان بھی شامل ہے۔

وزارت نے تاکید کی کہ یہ عمل افراد کو صحت کی سنگین پیچیدگیوں سے دوچار کردیتا ہے۔ یہ وارننگ ان معلوماتی غذائی نظاموں سے متعلق سفارشات کی بنیاد پر انسولین یا شوگر کی ادویات کو بند کرنے اور انہیں تجویز کردہ ادویات کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے یا ان کی خوراک (ڈوز) کم کرنے کے بعد متاثر ہونے والے صحت کے کیسز سامنے آنے کے بعد دی گئی ہے جس میں دائمی بیماریوں کے علاج بھی شامل ہیں جو متعلقہ ڈاکٹر سے رجوع کیے بغیر کیے گئے۔

کچھ کیسز میں خون میں شوگر کی سطح کے شدید اضافے یا ذیابیطس کے عوارض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی وارڈز میں مداخلت اور آئی سی یو میں داخل کرنے کی ضرورت پڑی۔ اسی تناظر میں سعودی وزارت صحت نے خوراک کو مطلق طور پر مفید اور نقصان دہ میں تقسیم کرنے یا طبی جواز کے بغیر بنیادی غذائی گروپوں کو خارج کرنے سے گریز کرنے پر زور دیا۔ ایسا اقدام جسم کے لیے ضروری غذائی اجزاء کی کمی کا باعث بن سکتا ہے ۔ سعودی وزارت صحت نے چینی یا سیچوریٹڈ فیٹس کے بے جا استعمال کو سب کے لیے ایک محفوظ انتخاب کے طور پر فروغ دینے کے خلاف بھی خبردار کیا۔

سعودی وزارت صحت نے کہا کہ صحت بخش غذائی طرزِ زندگی توازن اور تنوع پر مبنی ہوتا ہے جس میں سبزیوں کی کثرت، مناسب مقدار میں پھلوں کا استعمال، سالم اناج کا انتخاب، پروٹین کے ذرائع میں تنوع شامل ہے۔ اسی طرح اضافی چینی، میٹھے مشروبات، سیچوریٹڈ چکنائیوں اور نمک کو محدود کرنا شامل ہے۔

وزارت نے ہر اس شخص سے جس نے کوئی تجویز کردہ علاج روک دیا ہے یا اس کی خوراک کم کر دی ہے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنے اور پیچیدگیاں ظاہر ہونے کا انتظار نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزارت صحت نے ساتھ ہی معاشرے کی صحت کے تحفظ کے لیے کسی بھی علاج کے مقاصد والے غذائی نظام پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر اور ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں