مدينة عدن (رويترز) اقتصاد اليمن مناسبة

سعودی پروگرام کے تحت 150 ملین ڈالر کی گرانٹ کا معاہدہ کیا گیا: یمنی وزیر بجلی

برسوں سے جاری بجلی کا بحران جلد حل ہونے کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر بجلی عدنان محمد عمر الکاف نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سعودی پروگرام کے ساتھ 150 ملین ڈالر کی گرانٹ کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

وزیر بجلی نے وضاحت کی کہ سعودی پروگرام توانائی کے شعبے کی معاونت کے لیے گذشتہ کئی برسوں سے مداخلت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کا بحران گذشتہ کئی برسوں سے تمام صوبوں میں مسلسل جاری ہے۔

یمن کی وزارت بجلی و توانائی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ایندھن کی اضافی مقدار کو یقینی بنانے پر کام کیا ہے تاکہ بجلی پیدا کرنے والے سٹیشنوں کی مسلسل فعالیت اور سنہ 2026ء کے آخر تک بجلی کی سروس کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزارت نے واضح کیا کہ پہلے فوری مرحلے پر عمل درآمد آج سے شروع کر دیا جائے گا، جبکہ اگلے دو ہفتوں کے دوران فراہم کیے جانے والے ایندھن کی مقدار میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا، جس سے بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں بہتری آئے گی اور لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہوگی۔

عدن اور حضرموت کے لیے خصوصی اقدامات

وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ عدن اور حضرموت میں اقدامات کا ایک پیکیج اختیار کیا گیا ہے، جس میں بجلی گھروں کے لیے ضروری ایندھن کی فراہمی، پاور سٹیشنوں کی تکنیکی تیاری میں اضافہ اور بجلی کے نظام کی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ وزارت بجلی و توانائی نے سعودی عرب کی جانب سے مسلسل ملنے والی امداد پر گہرے شکریہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تعاون نے بجلی گھروں کو چلانے اور گذشتہ عرصے کے دوران بجلی کے نظام کو مکمل طور پر بیٹھ جانے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کے عارضی دارالحکومت عدن میں بجلی کا شدید بحران جاری ہے، جہاں گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی بندش کا دورانیہ روزانہ 20 گھنٹوں سے بھی بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور روزمرہ زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔

عوام کی مشکلات اور حکومتی حکمت عملی

عدن کے ایک رہائشی نے بتایا کہ بعض اوقات بجلی کی سہولت دن میں صرف دو گھنٹے کے لیے میسر ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی خدمات کی کمی، بجلی و پانی کی بندش اور تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث شہریوں کو شدید دشوار گزار حالات کا سامنا ہے، خاص طور پر موسم گرما کی تپش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔

دوسری جانب یمنی صدارتی دفتر کے معاشی مشیر فارس النجار نے العربیہ سے انٹرویو میں کہا کہ حکومت بجلی کے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے دو متوازی راستوں پر کام کر رہی ہے۔ پہلا راستہ فوری امدادی اقدامات پر مشتمل ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی کے ذریعے بجلی گھروں کی فعالیت کو برقرار رکھا جا سکے، جبکہ دوسرا راستہ بحران کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے پائیدار سٹریٹجک حل نافذ کرنے پر مرکوز ہے۔

فارس النجار نے واضح کیا کہ یمن میں بجلی کا بحران ایک پرانا اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو کئی عوامل کے جمع ہونے سے پیدا ہوا ہے، جن میں پاور سٹیشنوں کی بوسیدگی، ان کی میعاد ختم ہونا، ایندھن کی بلند قیمت، کھپت میں اضافہ اور ترسیلی نظام میں بجلی کا ضیاع شامل ہیں۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ یمن کے پاس ماضی میں مآرب گیس پاور سٹیشن جیسا اہم سٹریٹجک منصوبہ موجود تھا جس نے سنہ 2010ء کے آخر اور سنہ 2011 کے آغاز میں کام شروع کیا تھا۔

یہ سٹیشن تقریباً 600 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا تھا اور 19 سے زائد صوبوں کو سپلائی فراہم کرتا تھا، لیکن جنگ اور سیاسی بحران کے اثرات کی وجہ سے اسے بار بار نقصانات پہنچے اور وہ سروس سے باہر ہو گیا۔ اس صورتحال نے ملک کو چھوٹے پاور سٹیشنوں اور خریدی گئی بجلی پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا جو ضروریات کو مطلوبہ طریقے سے پورا نہیں کر پا رہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں