ترامب

ٹرمپ کی سالگرہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ؟ ایرانی میڈیا کا بڑا دعویٰ

مبصرین کا خیال ہے کہ دستخط کی تاریخ پر ٹرمپ کا اصرار ممکنہ طور پر اس معاہدے کو ایک ذاتی اور تشہیری کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں ادارہ ''فارس'' جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ہے، اس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج اتوار کو واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا، کیونکہ یہ دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سالگرہ سے مطابقت رکھتا ہے، ایران کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ اس موقع کو میڈیا میں اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

فارس کے مطابق بعض مبصرین کا خیال ہے کہ دستخط کی تاریخ پر ٹرمپ کا اصرار ممکنہ طور پر اس معاہدے کو اپنی سالگرہ کے ساتھ جوڑ کر ایک ذاتی اور تشہیری کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔

آج 14 جون ڈونلڈ ٹرمپ کی سالگرہ ہے۔ امریکا کے 47ویں صدر ٹرمپ 1946 میں پیدا ہوئے تھے اور آج اپنی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

ایرانی سیاسی ذرائع نے فارس کو بتایا کہ تہران کا مؤقف واضح ہے کہ معاہدہ ابھی پختہ نہیں ہوا اور اس کی حتمی دستاویز بھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے اس وقت اس پر دستخط ممکن نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم ان علامتی اور میڈیا سے متعلق پہلوؤں سے بخوبی آگاہ ہے اور مذاکراتی عمل کو کسی سیاسی یا رسمی تماشے میں تبدیل نہیں ہونے دے گی۔

فارس نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جاری مذاکرات اور حتمی اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث تہران آج کسی معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر کل دستخط کیے جانے والے ہیںاور دعویٰ کیا تھا کہ دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ مناسب وقت پر، جب حالات پرسکون ہو جائیں گے، ہم مضبوط چٹانی پہاڑوں کی گہرائی میں دفن جوہری مواد تک بی-2 بمبار طیاروں اور ان کے ماہر پائلٹس کی مدد سے پہنچیں گے، پھر اسے تباہ کر دیں گے، چاہے وہ ایران میں ہو یا امریکا میں۔

تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔

امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے زیر غور تجاویز میں معاہدے پر دور سے (ریموٹ) دستخط کرنے کا امکان بھی شامل ہے، جس کے بعد کسی مناسب موقع پر مشترکہ اور بالمشافہ دستخط کیے جا سکتے ہیں۔

مذاکرات سے باخبر ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری پابندیوں کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔

اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مزید مذاکرات کیے جائیں گے، جو وہ بنیادی مسئلہ تھا جس کے باعث ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی تھی۔

منجمد اثاثے

متعدد ذرائع کی جانب سے رائٹرز کو فراہم کردہ مسودۂ شرائط کے مطابق امریکا ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار رہائی شروع کرے گا اور تہران کی خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرے گا، جبکہ اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہوگا۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی مجوزہ معاہدے کا ایک لازمی حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ آئندہ 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران زیر بحث آئے گا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق مجوزہ معاہدے کے نتیجے میں بالآخر ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کیا جائے گا، جبکہ اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تباہ کرکے ہٹا دیا جائے گا۔

تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی، افزودہ یورینیم کو کم افزودگی والی شکل میں اپنے پاس رکھنے کا خواہاں ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں