امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
ٹرمپ ممکنہ طور پر جمعہ سے پہلے ایران کے ساتھ معاہدے کی کچھ تفصیلات ظاہر کر سکتے ہیں: وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو واضح اور عملی فوائد ملیں گے اگر وہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت میں شامل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔
ان کے مطابق آئندہ مرحلے میں تکنیکی سطح کی مذاکراتی بات چیت ہوگی ،جس میں کئی اہم اور حل طلب معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
وینس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکن ہے، جمعہ سے قبل ایران کے ساتھ معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے لائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ طے پانے والے بعض نکات کو عوام کے سامنے لایا جائے، جبکہ اسی دوران معاہدے پر عمل درآمد اور نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔
ان بیانات سے یہ توقع مزید بڑھ گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں ممکنہ معاہدے کی صورت واضح ہو جائے گی، کیونکہ اب تک اس کی کئی بنیادی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
نائب صدر کے مطابق واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک نئے مرحلے کا آغاز چاہتا ہے، بشرطیکہ تہران اپنے وعدوں پر عمل کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ ایران ایک ''معمول کا ملک'' بن کر عالمی برادری کے اصولوں کے مطابق رویہ اپنائے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اپنے اہداف حاصل کر چکی ہے اور یہ بہت کامیاب رہی۔
اسی کے ساتھ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی یا اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹا تو امریکہ دوبارہ اپنے پرانے سخت مؤقف اور اقدامات کی طرف لوٹ سکتا ہے۔
مفاہمتی یادداشت بہت عمومی نوعیت کی
وینس نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ایک بہت عمومی نوعیت کی دستاویز ہے اور اس کی اصل اور بنیادی تفصیلات آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی پیچیدہ امور ان مذاکرات کے دوران حل کیے جائیں گے، جن میں پابندیوں سے متعلق معاملات، جوہری ذمہ داریاں اور نگرانی و عمل درآمد کے طریقہ کار شامل ہیں۔
یہ بیان ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کی جانب سے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد سیاسی اور تکنیکی سطح پر نئے مذاکراتی مرحلے کی شروعات کرنا ہے۔
ایٹمی پروگرام
ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے حوالے سےوینس نے کہا کہ جوہری سرگرمیوں کے معائنہ کار ''یقینی طور پر'' ایران واپس جائیں گے، یہ ان شرائط کے تحت ہوگا ،جو اس وقت جنگ کے خاتمے اور دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے NBC نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں وضاحت کی کہ معائنہ کاروں کی واپسی ایک مؤثر تصدیقی اور نگرانی کے نظام کا بنیادی حصہ ہے، جسے واشنگٹن آئندہ مرحلے میں مضبوط بنانا چاہتا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تہران معاہدے کی شقوں کی پابندی کرے اور کسی بھی ایسے راستے کو روکا جا سکے جو فوجی جوہری صلاحیتوں کی طرف لے جائے۔
وینس نے کہا: درحقیقت معاہدے کے بنیادی حصوں میں سے ایک یہ ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور امریکہ مل کر ایران کو اس کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف کرنے میں مدد دیں گے اور یہ بات اس مفاہمتی یادداشت میں واضح طور پر درج ہے، جس پر امریکہ اور ایران پہلے ہی اتفاق کر چکے ہیں۔
ممکنہ مالی معاونت
ایک غیر معمولی پیش رفت میں، خبر رساں ادارے رائٹرز نے فنانشل ٹائمز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اگر معاہدہ برقرار رہتا ہے اور اس پر کامیابی سے عملدرآمد ہوتا ہے تو ایران کو 300 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ممکنہ اقتصادی مراعات کے اس مجموعے کا حصہ ہے ،جو حتمی معاہدے کے ساتھ منسلک ہو سکتے ہیں، تاکہ نئے سمجھوتوں کے استحکام کو سہارا دیا جا سکے اور تہران کو معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
رپورٹ میں ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 300 ارب ڈالر کا یہ فنڈ ان کمپنیوں کے لیے مختص ہوگا جو ایران میں سرمایہ کاری کی خواہش رکھتی ہیں اور یہ براہِ راست حکومتوں کے لیے نہیں ہوگا۔
اس سے قبل امریکی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی قسم کی پابندیوں میں نرمی یا منجمد رقوم کی بحالی ایران کی کارکردگی اور طے شدہ اقدامات پر اس کی عملداری سے مشروط ہوگی، جبکہ عملدرآمد کے مختلف مراحل میں نگرانی اور تصدیق کے سخت نظام بھی نافذ کیے جائیں گے۔
اثاثوں کا بحران
دوسری جانب تہران نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مرحلے میں توجہ پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر مرکوز ہوگی، جبکہ اس نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق کیا جائے گا۔
دونوں فریق آئندہ چند دنوں میں تکنیکی سطح کے ایک دورِ مذاکرات کے منتظر ہیں، جن کے بارے میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ بات چیت ایک حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔
اس معاہدے میں جوہری، اقتصادی اور سلامتی سے متعلق ان امور کی تفصیلات طے کی جائیں گی جو ابھی تک زیرِ بحث ہیں اور حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔