سوئٹرزلینڈ میں بورگن اشتوک کے پہاڑی تفریحی مقام سے (آرکائیو فوٹو - فرانس پریس)

آج امریکی ایرانی بات چیت نہیں ہو گی ... سوئس حکومت کا سرکاری اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے سوئٹزرلینڈ کے دورے کو منسوخ کرنے کے بعد، سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ مذاکرات منعقد نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ وہاں آج مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کی باضابطہ تقریبات اور ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز متوقع تھا۔

سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی ایرانی مذاکرات آج بورگن اشتوک کے پہاڑی تفریحی مقام پر منعقد نہیں ہوں گے جیسا کہ منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم یہ بیان اصل وجوہات کا ذکر کیے بغیر مختصر رہا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ اعلان وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے گذشتہ شام اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آیا کہ جے ڈی وینس نے اپنا وہ دورہ منسوخ کر دیا ہے جو ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ تھا۔ اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت پر عمل درآمد کے بارے میں مذاکرات شروع کرنا تھا۔ اس پر بدھ کی رات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے دستخط کیے تھے۔

اس التوا نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے دور کے آغاز کے وقت کے بارے میں ابہام پیدا کر دیا ہے جو کہ مفاہمت کی یاد داشت کے مطابق 60 دن تک جاری رہنا تھا اور اس میں توسیع بھی ممکن تھی۔

اس نے دونوں فریقوں کی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں کامیابی کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات اور قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ کچھ معاملات کسی بھی صورت آسان رکاوٹ نہیں بن سکتے ہیں، جن میں سر فہرست لبنان کی فائل ہے۔ کیونکہ اسرائیل نے امریکہ ایران مفاہمت کے باوجود جنوبی لبنان پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کل باور کرایا تھا کہ فوج لبنان میں اس علاقے سے پیچھے نہیں ہٹے گی، جو دریائے لیطانی کے جنوب میں تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

نیز فنڈز اور انویسٹمنٹ فنڈ کا معاملہ بھی گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کا موضوع بنا رہا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کا انتظام 60 دن کے بعد ایک دھماکہ خیز معاملے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں