فرانسیسی وزیر خارجہ جان نويل بارو

پیرس کی منظوری کے بغیر تہران پر عائد سلامتی کونسل کی پابندیاں نہیں ہٹیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جہاں ایک طرف ایران امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے نتیجے میں اپنے اوپر عائد بعض پابندیاں ختم ہونے کا منتظر ہے وہیں فرانسیسی وزیر خارجہ جان نويل بارو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک تہران پر عائد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں ہٹانے پر اس وقت تک رضا مند نہیں ہوگا جب تک وہ اس بات پر مطمئن نہ ہو جائے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات اس کی توقعات پر پورا اترتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے ملک فرانس کے وزیر خارجہ بارو نے جمعہ کو ریڈیو سٹیشن "فرانس انفو" سے گفتگو کرتے ہوئے یہ رائے بھی دی کہ خطے میں اس وقت تک کوئی استحکام نہیں آئے گا جب تک امریکہ ایران مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اپنے اتحادی مسلح گروہوں کے لیے تہران کی حمایت سے متعلق امور کا کوئی حل نہ نکل آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایران کے موقف میں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

لبنان کا محاذ

فرانسیسی وزیر نے جنوبی لبنان اور بقاع کو نشانہ بنانے والی نئی اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے بعد اسرائیل پر زور دیا کہ وہ امریکی اور ایرانی فریقین کے مابین بدھ کو دستخط شدہ معاہدے کے پروٹوکول کی پابندی کرے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ ’اے ایف پی‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ معاندانہ کارروائیوں کو روکنے کی شرط عائد کرتا ہے اور اسرائیلی حکومت کو اس کی پابندی کرنی چاہیے اور خاص طور پر امریکہ کو اسرائیلی حکومت پر ایسا کرنے کے لیے ہر ممکن ضروری دباؤ ڈالنا چاہیے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے گذشتہ روز اپنے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ اسرائیلی افواج لبنان میں جب تک ضروری ہوا موجود رہیں گی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب جنوبی لبنان میں ایک سکیورٹی زون برقرار رکھے گا اور وہاں سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کا یہ تقاضا ہوگا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے بدھ کی رات دستخط کیے تھے اس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر سیز فائر یعنی جنگ بندی کی شرط رکھی گئی تھی۔

اس یادداشت کی 14 شقوں میں سے ایک شق میں امریکہ کے اس عہد کا بھی ذکر تھا کہ وہ تہران پر عائد تمام قسم کی پابندیاں ختم کر دے گا جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے فیصلے اور تمام یکطرفہ بنیادی و ثانوی امریکی پابندیاں شامل ہیں جو حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر ایک متفقہ ٹائم لائن کے مطابق ختم کی جائیں گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ امریکہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی اور پابندیوں کے باقاعدہ خاتمے تک اس بات کا پابند ہوگا کہ امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، اس کے مشتقات اور ان سے جڑی تمام خدمات بشمول بینکنگ ٹرانزکشنز، انشورنس اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی برآمد کے لیے چھوٹ جاری کرے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں